
خلیج اردو
واشنگٹن ڈی سی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 اکتوبر 2025 کو اظہارِ اعتماد کرتے ہوئے کہا کہ وہ جلد ہی چین کے ساتھ ایک "شاندار” تجارتی معاہدہ طے کر لیں گے، اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان محصولات اور نایاب معدنیات کے حوالے سے کشیدگی برقرار ہے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، "میرا خیال ہے کہ ہم آخرکار چین کے ساتھ ایک شاندار تجارتی معاہدہ کریں گے۔” ان کا یہ بیان اُس وقت سامنے آیا جب تجارتی جنگ میں مسلسل محصولات میں اضافے اور چین کی جانب سے اہم معدنیات کی برآمدات پر پابندیوں نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
امریکی صدر نے چینی درآمدات پر محصولات 57 فیصد تک بڑھا دیے ہیں، جس کے جواب میں چین نے الیکٹرانکس اور دفاعی سازوسامان میں استعمال ہونے والی نایاب معدنیات کی برآمدات محدود کر دی ہیں۔
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر یکم نومبر تک معاہدہ نہ ہوا تو چینی اشیاء پر محصولات 157 فیصد تک بڑھا دیے جائیں گے۔
اسی روز ٹرمپ نے آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البنیز کے ساتھ ملاقات میں نایاب معدنیات کی پراسیسنگ کے لیے ایک ارب ڈالر کے مشترکہ منصوبے کا اعلان کیا، جس کا مقصد چین پر انحصار کم کر کے متبادل سپلائی چینز کو فروغ دینا ہے۔
چین کی جوابی پابندیوں سے امریکی زرعی برآمدات، خاص طور پر سویابین کی تجارت، شدید متاثر ہوئی ہے۔ ٹرمپ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "انہوں نے ہمارے سویابین خریدنے بند کر دیے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں یہ ہمیں سزا دینے کا طریقہ ہے۔ یہ ہمارے کسانوں کے لیے واقعی سزا ہے، لیکن ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے۔”







