متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات دنیا کے ان تین ممالک میں شامل جہاں ہر بالغ فرد کے پاس موبائل فون موجود ہے

خلیج اردو
ابوظہبی: عالمی بینک کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات، ناروے اور لیبیا دنیا کے وہ تین ممالک ہیں جہاں ہر بالغ فرد کے پاس موبائل فون موجود ہے۔ اس رپورٹ کو 2025 کے گلوبل فنڈیکس کے تحت جاری کیا گیا ہے۔

خلیجی خطے میں سعودی عرب، بحرین اور عمان بالغ آبادی میں 98 فیصد موبائل فون ملکیت کے ساتھ امارات کے بعد دوسرے درجے پر ہیں، جب کہ کویت میں یہ شرح 95 فیصد ہے۔ عالمی سطح پر بھی کئی ترقی یافتہ ممالک میں موبائل فون کی رسائی بلند سطح پر ہے، جیسے کہ سویڈن، آئس لینڈ، فن لینڈ، لیتھوانیا، اٹلی، ڈنمارک اور ایسٹونیا، جہاں 99 فیصد بالغ افراد موبائل استعمال کرتے ہیں۔

اسی طرح امریکہ، قبرص، الجیریا، ہانگ کانگ، لٹویا، منگولیا اور ویتنام میں موبائل فون ملکیت 98 فیصد تک ہے۔ دوسری جانب بھارت میں یہ شرح 66 فیصد، پاکستان میں 63 فیصد، فلپائن میں 78 فیصد، مصر میں 85 فیصد جبکہ برطانیہ میں 92 فیصد ہے۔

عالمی بینک کے مطابق 2024 تک دنیا بھر میں 86 فیصد بالغ افراد موبائل فون استعمال کرتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ موبائل فونز اور انٹرنیٹ روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں اور ان کے بغیر ایک گھنٹہ بھی گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک میں انٹرنیٹ استعمال بھی بہت بلند سطح پر ہے، جو حالیہ تین ماہ کے اعداد و شمار کے مطابق 86 سے 99 فیصد کے درمیان رہا۔

اسی رجحان کی عکاسی 2025 گلوبل ڈیجیٹل شاپنگ انڈیکس میں بھی ہوتی ہے، جس کے مطابق موبائل فون کے ذریعے آن لائن خریداری میں متحدہ عرب امارات دنیا میں سرِفہرست ہے۔ امارات میں 37 فیصد خریداری موبائل کے ذریعے کی جاتی ہے، جب کہ سنگاپور میں یہ شرح 34.8 فیصد، برطانیہ میں 27.6 فیصد اور برازیل میں 24.4 فیصد ہے۔

ویزا یو اے ای کی کنٹری منیجر سلیمہ گوٹیوا نے کہا کہ: "یو اے ای کا ماڈل ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح تمام شعبے مل کر مستقبل کی تجارت کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔”

ایک اور تحقیق کے مطابق خطے میں فوڈ ڈیلیوری ایپس کا غلبہ برقرار ہے، جہاں 75 فیصد آرڈرز ہنگر اسٹیشن، طلبات اور ڈیلیورو جیسی ایپس کے ذریعے کیے جا رہے ہیں، جب کہ بقیہ 25 فیصد کال سینٹرز، ریسٹورنٹس کی اپنی ایپس یا ویب سائٹس کے ذریعے مکمل کیے جا رہے ہیں، جو موبائل ٹیکنالوجی کے روزمرہ زندگی میں مرکزی کردار کو واضح کرتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button