
خلیج اردو
ابوظبی: وفاقی مسابقت اور شماریات مرکز (FCSC) کے مطابق متحدہ عرب امارات میں سال 2024 کے دوران لیبر فورس کا حجم بڑھ کر 94 لاکھ افراد تک پہنچ گیا، جو 2023 کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق 15 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کی معاشی شمولیت کی شرح بھی 78.5 فیصد سے بڑھ کر 81.4 فیصد ہو گئی، جبکہ بے روزگاری کی شرح 2.1 فیصد سے کم ہو کر 1.9 فیصد پر آ گئی، جو عالمی سطح پر سب سے کم شرحوں میں سے ایک ہے۔ یہ پیش رفت ملکی لیبر مارکیٹ کی مضبوطی اور مختلف اقتصادی شعبوں میں مسلسل ترقی کی عکاسی کرتی ہے۔
لیبر مارکیٹ میں عالمی مسابقت کے اشاریوں میں امارات کی قیادت
عالمی ادارہ برائے انتظامی ترقی (IMD) کی رپورٹ کے مطابق، متحدہ عرب امارات نے 2025 کے لیے لیبر فورس گروتھ انڈیکس میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے، جبکہ دیگر پانچ اہم عالمی اشاریوں میں بھی سرفہرست پانچ ممالک میں شامل رہا۔ ان میں شامل ہیں:
• لیبر فورس فیصد میں دنیا بھر میں دوسری پوزیشن
• غیر ملکی لیبر فورس فیصد میں دوسری پوزیشن
• ہنرمند افرادی قوت کی دستیابی میں تیسری پوزیشن
• لیبر قوانین کی دستیابی میں چوتھی پوزیشن
• مجموعی معیشت کے یونٹ لیبر کاسٹ میں پانچویں پوزیشن
بے روزگاری کی شرح 1.9 فیصد تک کم
FCSC کی ڈائریکٹر، حنان اہلی نے کہا کہ 2024 کے لیبر فورس سروے کے مثبت نتائج — جن میں لیبر فورس کے حجم میں اضافہ، معاشی شمولیت میں بہتری، اور بے روزگاری کی شرح میں نمایاں کمی شامل ہے — محض اعداد و شمار نہیں بلکہ قیادت کے وژن کا ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات ایک مثالی ماحول فراہم کر رہا ہے جہاں افرادی قوت کے لیے پائیدار مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں، روزگار میں اضافہ ہو رہا ہے، اور بے روزگاری کم کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔







