
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل ڈاکٹر حمد سیف الشامسی نے ڈرون ملبے یا میزائل کے ٹکڑوں سے ہونے والے نقصانات کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے اور پھیلانے سے سختی سے منع کر دیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے مناظر کی تصویر کشی، اشاعت یا سوشل میڈیا پر گردش عوام میں خوف و ہراس پیدا کر سکتی ہے اور ملک کی حقیقی صورتحال کے بارے میں غلط تاثر قائم کر سکتی ہے۔
ڈاکٹر حمد سیف الشامسی نے کہا کہ ریاستی ادارے مکمل پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں تاکہ معاشرے کے امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان کے مطابق ملک میں معمولات زندگی معمول کے مطابق جاری ہیں جبکہ متعلقہ ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایسے واقعات کو سکیورٹی اور دفاعی نظام کے تحت سنبھالا جاتا ہے، اس لیے حادثاتی مقامات کی ویڈیوز یا تصاویر بنانا اور انہیں پھیلانا حکام کی کارروائیوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
اٹارنی جنرل کے بیان کے مطابق پہلے بھی حکام کی جانب سے وارننگ دی جا چکی ہے لیکن اس کے باوجود بعض افراد متاثرہ مقامات کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایسی ویڈیوز یا غلط معلومات عوام میں خوف پھیلانے، جھوٹی خبریں پھیلانے یا عوامی نظم و ضبط کو متاثر کرنے کا سبب بنیں تو یہ قانون کی خلاف ورزی تصور ہوگی اور اس پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اٹارنی جنرل نے مصنوعی ذہانت یا ڈیجیٹل ترمیم کے ذریعے بنائی گئی جعلی ویڈیوز یا تصاویر پھیلانے کے خلاف بھی خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ میزائل حملوں یا تنصیبات پر حملوں کے جھوٹے مناظر تیار کر کے پھیلانا سنگین جرم ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو گمراہ کرنے کے لیے ایسے مواد کی تیاری یا اشاعت کرنے والوں کے خلاف سرکاری استغاثہ سخت قانونی کارروائی کرے گا اور کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
اٹارنی جنرل نے شہریوں اور مقیم افراد پر زور دیا کہ وہ قومی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے صرف سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور قانون کی مکمل پابندی کریں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں غلط معلومات اور جعلی ویڈیوز کے پھیلاؤ کو روکنا قومی سلامتی کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔







