
خلیج اردو
دبئی: دبئی کمرشل کورٹ آف انہرٹینس میں ایک مقامی بینک کے خلاف ایک سول مقدمہ دائر کیا گیا ہے، جس میں ایک مرحوم کینیڈین تاجر کے ورثاء نے الزام عائد کیا ہے کہ بینک نے ان کے بھائی کی وفات کے بعد اکاؤنٹس سے کروڑوں درہم کی غیر مجاز لین دین کی اور اثاثے روک لیے۔
اماراتی وکیل عواطف شوقی، جو مرحوم کے بھائی اور دو بہنوں کی نمائندگی کر رہی ہیں، نے خلیج ٹائمز کو بتایا کہ بینک کو اکتوبر 2020 کے آخر میں تاجر کی وفات سے سرکاری طور پر آگاہ کر دیا گیا تھا اور بینک نے اکاؤنٹ کی حیثیت کو اپڈیٹ بھی کر دیا تھا، لیکن اس کے باوجود بغیر عدالتی منظوری کے اکاؤنٹس سے لین دین جاری رکھی گئی۔
ورثاء کی جانب سے عدالت سے 76.9 ملین درہم بمع سود اور ہرجانے کی وصولی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
عواطف شوقی کے مطابق، غیر مجاز رقوم کی منتقلی کی مجموعی مالیت 18.7 ملین درہم سے زائد ہے، جبکہ چیک کے ذریعے نکالی گئی رقوم تقریباً 3.7 ملین درہم بنتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی بینک کے قواعد کے تحت کسی بھی اکاؤنٹ ہولڈر کی وفات کے بعد اکاؤنٹ کو فوری طور پر منجمد کر دینا چاہیے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ 87 ملین درہم کی رقم دو سال تک بلاجواز بینک گارنٹی کے طور پر روکی گئی، جبکہ اس عرصے میں کسی قسم کا دعویٰ موجود نہیں تھا، جس سے سرمایہ کاری کے مواقع ضائع ہوئے۔
مزید برآں، عدالت کو بتایا گیا کہ بینک نے مرحوم کی مدت مقررہ سرمایہ کاری کو عدالتی منظوری اور ورثاء کی رضامندی کے بغیر کم منافع پر ازسرنو جاری رکھا۔
عواطف شوقی کے مطابق مرحوم نے بینک کی ملکیت میں مختلف منصوبوں اور سرمایہ کاری پورٹ فولیوز میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی تھی، جو براہ راست ان کے نام پر ظاہر نہیں ہوتیں جب تک بینک انہیں تسلیم نہ کرے۔ تاہم، تاحال بینک نے کوئی معلومات فراہم نہیں کی، جو کہ بینکاری قوانین اور اخلاقی ذمے داریوں کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بینک کو مرحوم کے تمام اکاؤنٹس، سرمایہ کاری اور مالیاتی معاملات سے متعلق دستاویزات پیش کرنے کا پابند کرے اور مکمل آڈٹ کا حکم دے تاکہ ورثاء کو ہونے والے مالی نقصان کا اندازہ لگایا جا سکے۔
مزید بتایا گیا کہ ایک وصیت تیار کی گئی تھی، تاہم اسے نوٹری کے ذریعے تصدیق نہیں کرایا گیا، اور عدالت نے اسے مسترد کر دیا تھا۔







