
خلیج اردو
دبئی : متحدہ عرب امارات میں ملازمت سے متعلق قانونی اصلاحات کے بعد ملازم اور آجر دونوں کے حقوق کی حفاظت کو یقین بنایا گیا ہے۔ ایسے میں ایک ریڈر کا سوال اور اس پر قانونی ماہرین کا جواب آپ کو اپنے حقوق سے متعلق آگاہی میں مدد دے گا۔
سوال: وہ کونسے وجوہات ہیں جن کی بنا پر دبئی میں مقیم میری کمپنی میری خدمات ختم کر سکتی ہے؟ اگر میری کارکردگی اچھی رہی ہے اور مجھے انتظامیہ کی طرف شاباشی اورر تعریفی اسناد بھی ملے ہیں۔ میری کمپنی کی مالی حیثیت بھی اچھی ہے۔ تاہم میں سن رہا ہوں کہ میں ان ملازمین میں شامل ہو سکتا ہوں جنہیں کمپنی جانے نوکری سے نکال دے گی۔ اس حوالے سے رہنمائی درکار ہے۔
جواب: آپ کے سوالات کے مطابق فرض کیا جاتا ہے کہ آپ دبئی میں مقیم مین لینڈ کمپنی میں ملازم ہیں۔ یہاں ایمپلائمنٹ ریلیشنز کے ریگولیشن کے 2021 کے وفاقی فرمان قانون نمبر 33 کی دفعات لاگو ہوتیں ہیں۔
متحدہ عرب امارات میں کوئی آجر کسی ملازم کی خدمات کو نوٹس کی مقررہ مدت پوری کیے بغیر ختم کرنے کا اختیار رکھتا ہے اگر ملازم کو اس بنیاد پر تحریری تحقیقات کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
ان تحقیقات میں میں غلط بیانی، جھوٹے سرٹیفکیٹ یا دستاویزات جمع کروانا، آجر کو مالی نقصان پہنچانا، کام کی جگہ پر حفاظتی اقدامات کی خلاف ورزی، رازداری کی خلاف ورزی، عدم کارکردگی، شراب نوشی یا منشیات کا استعمال، کام کی جگہ پر غیر اخلاقی حرکتیں کرنا، ساتھیوں پر حملہ کرنا شامل ہیں۔
سات ورکنگ ڈیز سے زیادہ کام سے غیر حاضر رہنا یا ایک سال میں 20 غیر لگاتار چھٹیاں کرنا اور ذاتی فوائد حاصل کرنے کے لیے عہدے کا غلط استعمال کرنے جیسے اقدامات پر آپ کو نوکری سے نکالا جا سکتا ہے۔ یہ مذکورہ بالا قانون کے آرٹیکل چوالیس کے عین مطابق ہے۔
ایک آجر کسی ملازم کو نوٹس کی مدت پوری کر کے ایک درست وجہ کے ساتھ برطرف کر سکتا ہے۔ قانون کے مطابق ملازمت کے معاہدے کا کوئی بھی فریق دوسرے کو تحریری نوٹس دے کر اچھے مقصد کے لیے معاہدہ ختم کر سکتا ہے۔ ملازم اپنے فرائض انجام دے گا۔ معاہدے میں نوٹس کی مدت پر اتفاق کیا گیا ہے تاہم نوٹس کی مدت 30 دن سے کم نہ ہو اور 90 دن سے زیادہ نہ ہو۔
اگر کوئی آجر بغیر کسی معقول وجہ کے کسی ملازم کو برطرف کرتا ہے تو من مانی کی وجہ سے آجر کو ملازم کو تین ماہ تک کی تنخواہ ادا کر کے معاوضہ دینا پڑ سکتا ہے۔ یہ ایمپلائمنٹ قانون کے آرٹیکل 47 کے مطابق ہے
جس کے مطابق :
1. کسی ملازم کو اس کے آجر کی طرف سے برطرف کرنا صوابدیدی اختیار ہو گا اگر ملازم وزارت کو ایک سنگین شکایت جمع کرائے یا آجر کے خلاف درست ثابت ہونے والی کوئی کارروائی دائر کرے۔
2. آجر ملازم کو ایک مناسب معاوضہ ادا کرے گا جس کا تخمینہ مجاز عدالت نے لگایا ہے اگر یہ پایا جاتا ہے کہ برطرفی کیلئے من مانی کی گئی ہے۔
معاوضے کی رقم کام کی قسم، ملازم کو پہنچنے والے نقصان کی حد اور اس کی سروس کی مدت کی بنیاد پر طے کی جائے گی۔ کسی بھی صورت میں، معاوضے کی رقم ملازم کی تین ماہ کی تنخواہ سے زیادہ نہیں ہوگی جو اسے موصول ہوئی آخری تنخواہ کی بنیاد پر لگائی گئی ہے۔
3. مندرجہ بالا پیراگراف (2) کی دفعات کسی ملازم کے نوٹس کے بدلے تنخواہ کے حق اور اس کی دفعات کے تحت اس کی وجہ سے علیحدگی کی تنخواہ کے حق کو متاثر نہیں کریں گی۔
آپ وزارت برائے انسانی وسائل اور ایمریٹائزیشن سے رابطہ کر سکتے ہیں اور اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی برطرفی کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے تو شکایت بھی درج کر سکتے ہیں۔
آپ کی شکایت کی بنیاد پر موہری آپ اور آپ کے آجر دونوں کو سن سکتا ہے اور معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ اگر یہ ناکام ہوجاتا ہے وزارت معاملے کو عدالت میں بھیج سکتا ہے۔
Source: Khaleej Times







