متحدہ عرب امارات

سیلابی علاقوں میں ڈرائیونگ کو غفلت قرار دے کر انشورنس کلیمز مسترد ہونے لگے

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں انشورنس کمپنیوں نے سیلابی وادیوں اور پانی سے بھرے علاقوں میں ڈرائیونگ کو غفلت قرار دیتے ہوئے ایسے کیسز میں کلیمز مسترد کرنا شروع کر دیے ہیں۔ انڈسٹری ماہرین کے مطابق مقامی انشورنس مارکیٹ کے پختہ ہونے کے ساتھ ساتھ صارفین بھی زیادہ باخبر ہو رہے ہیں، خاص طور پر اپریل 2024 اور دسمبر 2025 کی شدید بارشوں کے بعد، اور زیادہ جامع پالیسیوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔

جدید گاڑیوں کی مہنگی مرمت، نئی ٹیکنالوجیز اور الیکٹرک گاڑیوں کے بڑھتے استعمال کے باعث انشورنس لاگت میں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں پریمیم ریٹس بھی بڑھے ہیں۔

انشورنس کمپنیوں کے مطابق ایسے واقعات میں کلیمز مسترد کیے جا رہے ہیں جہاں ڈرائیور جانتے بوجھتے پانی سے بھرے ہوئے علاقوں، خطرناک زونز یا شدید متاثرہ سڑکوں سے گزرنے کی کوشش کرتے ہیں اور پالیسیوں میں موجود استثنات لاگو ہو جاتی ہیں۔

ماہرین نے کہا کہ دسمبر کی بارشوں کے دوران بروقت وارننگز، موسم کی تازہ اطلاعات اور سرکاری انتباہات نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے میں مدد دی جس سے انشورنس نقصانات کم ہوئے۔

انشورنس سیکٹر کے مطابق صارفین میں پالیسی کی شرائط، کٹوتیوں اور جامع موٹر و پراپرٹی کور کے بارے میں آگاہی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں کلیمز کی تیز رفتار رپورٹنگ، بہتر توقعات اور ہموار پروسیسنگ دیکھنے میں آئی ہے۔ اسی آگاہی کے باعث بڑی تعداد میں لوگ تھرڈ پارٹی سے جامع موٹر انشورنس کی طرف آئے ہیں جبکہ کرایہ داروں میں گھریلو سامان کی انشورنس بھی بڑھی ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ دسمبر کی بارشوں نے انشورنس کمپنیوں کی آپریشنل صلاحیت، مالی مضبوطی اور چھوٹی کمپنیوں کے سرمائے کے ذخائر کا عملی امتحان لیا۔ اسے جھٹکے کے بجائے ایک اہم اسٹریس ٹیسٹ قرار دیا گیا جس نے پیشگی تیاری، ڈیٹا پر مبنی انڈر رائٹنگ اور صارفین کی آگاہی کی اہمیت کو مزید واضح کر دیا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button