
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں مقیم وہ سینکڑوں سرمایہ کار، جنہوں نے ہیرا گروپ کی ناکام سرمایہ کاری اسکیموں میں اپنی رقم کھو دی تھی، بھارت میں ہونے والی تازہ پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جہاں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے گروپ اور اس کی بانی نوہیرا شیخ سے منسلک 40 جائیدادوں کی نیلامی کا اعلان کیا ہے۔ یہ جائیدادیں بھارت کے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون کے تحت ضبط کی گئی تھیں اور سرکاری ای نیلامی پلیٹ فارم ایم ایس ٹی سی کے مطابق 26 دسمبر کو نیلام کی جائیں گی۔
نیلامی کے لیے پیش کی جانے والی جائیدادوں میں کمرشل عمارتیں، رہائشی فلیٹس، دکانیں، دفاتر، کھلی زمین اور زرعی پلاٹس شامل ہیں، جو حیدرآباد اور تلنگانہ کے دیگر علاقوں کے علاوہ ممبئی اور بنگلورو میں واقع ہیں۔ یو اے ای میں مقیم سرمایہ کاروں کے لیے، جن میں سے کئی اس اسکیم کے ابتدائی سرمایہ کار تھے، یہ نیلامی برسوں کی قانونی غیر یقینی صورتحال کے بعد کسی حد تک اطمینان کا باعث بنی ہے۔ ہیرا گروپ نے خلیجی ممالک میں رہنے والوں کو جارحانہ انداز میں اپنی مبینہ سود سے پاک سرمایہ کاری اسکیمیں متعارف کرائی تھیں، جن میں باقاعدہ اور بلند منافع کا وعدہ کیا گیا تھا، جو حلال سرمایہ کاری کے خواہشمند افراد کے لیے پرکشش ثابت ہوا۔
خلیج ٹائمز کی سابقہ رپورٹس کے مطابق، ہیرا گروپ نے بھارت اور خلیجی ممالک میں بڑے پیمانے پر کاروبار کیا۔ ہیرا گولڈ، ہیرا ٹیکسٹائلز اور ہیرا فوڈیکس جیسی اسکیموں میں سالانہ 65 سے 80 فیصد تک منافع کا وعدہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں دسیوں ہزار افراد نے سرمایہ کاری کی۔ کئی یو اے ای باشندوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی لگائی جبکہ بعض نے قرض لے کر سرمایہ کاری کی، کیونکہ انہیں ماہانہ ادائیگیوں کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔
یہ اسکیم 2018 میں اس وقت منہدم ہو گئی جب اچانک ادائیگیاں بند ہو گئیں اور دبئی کے جمیرہ لیک ٹاورز سمیت شارجہ اور راس الخیمہ میں موجود دفاتر بند کر دیے گئے۔ اسی سال نوہیرا شیخ کی گرفتاری عمل میں آئی، جس کے بعد متعدد بھارتی اداروں نے تحقیقات شروع کیں اور سرمایہ کار جواب کے لیے دربدر ہو گئے۔
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے مطابق، ضبط شدہ جائیدادوں کی نیلامی سرمایہ کاروں کی رقم کی واپسی کی کوششوں کا حصہ ہے، جس کا ہدف قانونی اخراجات سمیت تقریباً 78 ملین درہم بتایا گیا ہے۔ تاہم متاثرہ افراد کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ اصل نقصان اس سے کہیں زیادہ ہے۔ عدالتی ریکارڈز اور تفتیشی دستاویزات کے مطابق، 175 ہزار سے زائد سرمایہ کاروں نے ایک ارب درہم سے زیادہ کی رقم لگائی، جس کا بڑا حصہ یو اے ای سمیت بیرون ملک سے آیا۔
آل انڈیا ہیرا گروپ وکٹمز ایسوسی ایشن کے صدر شہباز احمد خان نے اس نیلامی کو ایک اہم قدم قرار دیا، تاہم خبردار کیا کہ توقعات حقیقت پسندانہ ہونی چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے متاثرین، خصوصاً بیرون ملک مقیم سرمایہ کار، اس صورت میں محروم رہ سکتے ہیں اگر انہوں نے باضابطہ طور پر اپنے دعوے جمع نہ کرائے ہوں، اور انہوں نے سب کو سیرئیس فراڈ انویسٹی گیشن آفس میں مکمل دستاویزات جمع کرانے کی اپیل کی۔
خلیج ٹائمز کو پہلے فراہم کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، دعوے جمع کرانے کی سرکاری اپیل کے باوجود سات ہزار سے بھی کم درخواستیں موصول ہوئیں، جو مجموعی نقصان کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ متاثرین کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ آگاہی کی کمی یا دستاویزات نہ ہونے کے باعث کئی سرمایہ کار اس عمل سے محروم رہ گئے۔
یو اے ای میں مقیم بہت سے خاندانوں کے لیے اس معاملے کا جذباتی اثر مالی نقصان سے کم نہیں رہا۔ ہیرا گروپ کے انہدام نے کئی خاندانوں کو قرضوں میں دھکیل دیا، بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی اور برسوں تک عدم استحکام رہا۔ کچھ غیر ملکی مزدور اپنی جمع پونجی کھونے کے بعد وطن واپس لوٹ گئے، جبکہ دیگر آج بھی خلیج میں قرضوں کی ادائیگی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے واضح کیا ہے کہ جائیدادیں موجودہ حالت میں نیلام کی جائیں گی اور خریداروں کو خود جانچ پڑتال کرنا ہو گی۔ اگرچہ 40 جائیدادوں کی فروخت اس کیس میں اب تک کی بڑی کارروائیوں میں سے ایک ہے، تاہم متاثرین کا کہنا ہے کہ اس سے مکمل ازالہ ممکن نہیں ہوگا۔







