متحدہ عرب امارات

یو اے ای کی نئی خارجہ پالیسی، ایران سے تعلقات میں بڑی تبدیلیاں، قومی مفاد کو اولین ترجیح قرار، علاقائی حکمت عملی میں اہم سفارتی موڑ سامنے آگیا

خلیج اردو
حالیہ کشیدگی کے بعد متحدہ عرب امارات نے اپنی علاقائی اور عالمی پوزیشننگ میں اہم تبدیلیوں کا عندیہ دیا ہے، جس میں قومی مفاد کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔

دبئی پریس کلب میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی قومی کونسل کی دفاع، داخلہ اور خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر علی النعیمی نے مستقبل کی خارجہ پالیسی کے اہم نکات واضح کیے۔

انہوں نے کہا کہ یو اے ای سفارتی عمل سے باہر نہیں بلکہ عالمی طاقتوں سے مسلسل رابطے میں ہے اور ہر اہم پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

ان کے مطابق امریکا، یورپ، چین اور روس کے ساتھ تعلقات مضبوط اور اسٹریٹجک بنیادوں پر قائم ہیں، جو باہمی اعتماد اور طویل مدتی تعاون پر مبنی ہیں۔

ڈاکٹر علی النعیمی نے واضح کیا کہ آئندہ خارجہ پالیسی کی بنیاد “قومی مفاد پہلے” ہوگی، اور ہر اتحاد و شراکت داری کو اسی پیمانے پر پرکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یو اے ای اب عمومی عرب یا اسلامی یکجہتی جیسے وسیع فریم ورک پر مکمل انحصار نہیں کرے گا کیونکہ بحرانوں میں یہ ہمیشہ مؤثر ثابت نہیں ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ مستقبل کے تعلقات جذباتی یا خودکار ہم آہنگی پر نہیں بلکہ عملی نتائج اور باہمی فائدے پر مبنی ہوں گے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سفارت کاری جاری رہے گی مگر اس کا انحصار خودمختاری کے احترام، استحکام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر ہوگا۔

ڈاکٹر علی النعیمی نے ایرانی قیادت پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بیانات اور اقدامات میں تضاد نے تعلقات میں واضح خلا پیدا کر دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یو اے ای خطے میں استحکام کے لیے ٹھوس ضمانتیں، خلاف ورزیوں پر جوابدہی اور نقصانات کے ازالے کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یو اے ای کی یہ نئی حکمت عملی خطے میں سفارتی توازن کو نئی شکل دے سکتی ہے اور ایران کے ساتھ تعلقات پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button