
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں روزگار کے شعبے میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں 2026 کے لیے 56 فیصد آجر اپنی افرادی قوت بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یو اے ای عالمی سطح پر بھرتیوں کے رجحان میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے جبکہ خلیجی خطے میں 2030 تک پانچ ملین سے زائد نئی ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔
یہ اضافہ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صحت اور توانائی کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کے باعث ہو رہا ہے، جہاں ماہر افراد کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
خاص طور پر مصنوعی ذہانت انجینئرنگ، سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا سائنس کے شعبوں میں ملازمتوں کی مانگ میں تیزی آئی ہے جبکہ قیادت اور تکنیکی عہدوں میں 40 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مالیاتی اور قانونی شعبے بھی فِن ٹیک اور علم پر مبنی خدمات کی بدولت ترقی کر رہے ہیں جبکہ صاف توانائی اور انفراسٹرکچر منصوبے بھی روزگار کے اہم ذرائع بنے ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تنخواہوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، یو اے ای میں اوسط اضافہ 4.1 فیصد جبکہ کچھ مخصوص شعبوں میں 10 فیصد سے زائد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
تاہم رپورٹ میں ہنر کی کمی کو بڑا چیلنج قرار دیا گیا ہے، جہاں زیادہ تر ادارے مہارت کی بنیاد پر بھرتی کو اہم سمجھتے ہیں لیکن عملی طور پر اس پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو رہا۔
ماہرین کے مطابق 2030 تک 70 فیصد ملازمتوں کی نوعیت تبدیل ہو جائے گی اور تقریباً 14 لاکھ افراد کو نئی مہارتیں سیکھنے کی ضرورت ہوگی۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یو اے ای میں جلد ہی نصف دفاتر ہائبرڈ ورک ماڈل اپنائیں گے جبکہ 80 فیصد ملازمین بہتر تنخواہ یا لچکدار ماحول کے لیے ملازمت تبدیل کرنے کو تیار ہیں۔
ماہرین نے اداروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مہارتوں پر مبنی نظام اپنائیں، ملازمتوں کی نئی تعریف کریں اور افرادی قوت کی تربیت پر سرمایہ کاری بڑھائیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خلیج میں کامیاب وہی ادارے ہوں گے جو بروقت مہارتوں کی ترقی، افرادی منصوبہ بندی اور ملازمین کو برقرار رکھنے پر توجہ دیں گے۔







