
خلیج اردو
ام القیوین: 31 مئی 2025
متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے حالیہ دنوں میں ایک جج کی انسانی ہمدردی پر مبنی اقدام کو سراہا، جس نے ایک پاکستانی شہری پر عائد 60 ہزار درہم کا جرمانہ معاف کر دیا۔ اس موقع پر اماراتی صدر نے جج حمید العلی کو ایک خصوصی تقریب میں اعزاز سے نوازا۔
یہ معاملہ ام القیوین کی وفاقی ابتدائی عدالت میں زیر سماعت تھا، جہاں پاکستانی شہری نے اپنے، اپنی اہلیہ اور چار بچوں کے ویزے پانچ سال تک تجدید نہ کروانے پر لگنے والے جرمانے کے خلاف درخواست دی تھی۔ عدالت میں شہری نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ ایک اماراتی کفیل کی دیکھ بھال میں مصروف تھا جو کینسر کے مرض میں مبتلا تھا، اور انہی ذاتی حالات کے باعث وہ اپنی رہائشی قانونی حیثیت کو بھول گیا۔
دلچسپ موڑ اُس وقت آیا جب یہ مقدمہ ’’یومِ زاید برائے انسانی خدمات‘‘ کے موقع پر سنا گیا، جو مرحوم شیخ زاید بن سلطان النہیان کی انسان دوستی کے جذبے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔
سماعت کے دوران جج حمید العلی نے دیکھا کہ شہری کا کم سن بیٹا سفید کندورہ پہنے عدالت میں کھڑا ہے۔ جج نے اس سے نام پوچھا تو بچے نے دھیرے سے جواب دیا: "زاید”۔
اس جذباتی لمحے پر جج نے اپنے کندھوں پر پڑی اماراتی پرچم کی شال اتار کر بچے کو اوڑھا دی اور کہا: "زاید پر کوئی جرمانہ نہیں، زاید کو اعزاز دیا جاتا ہے”۔ اس کے بعد جج نے باقاعدہ طور پر 60 ہزار درہم کا جرمانہ منسوخ کر دیا۔
اس غیرمعمولی عدالتی اقدام کو صدر شیخ محمد بن زاید نے نہ صرف سراہا بلکہ انسان دوستی کے جذبے کی علامت قرار دیا، اور جج حمید العلی کو سرکاری تقریب میں اعزاز سے نوازا۔







