
خلیج اردو
آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی نے یو اے ای میں بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں بچے ٹک ٹاک، انسٹاگرام، روبلوکس اور اسنیپ چیٹ جیسے پلیٹ فارمز پر بڑھتا وقت گزار رہے ہیں۔ تاہم یو اے ای کے والدین کی اکثریت کا کہنا ہے کہ حل پابندی میں نہیں بلکہ بچوں کو محفوظ ڈیجیٹل ماحول میں رہنمائی فراہم کرنے میں ہے۔
متعدد والدین نے خلیج ٹائمز کو بتایا کہ عمر کی پابندیاں ٹیکنالوجی سمجھنے والے نوجوان آسانی سے بائی پاس کر لیتے ہیں، اس لیے والدین کی نگرانی، ڈیجیٹل آگاہی اور کھلی بات چیت ہی اصل ضرورت ہے۔
دبئی میں مقیم ام امیرہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنی 13 سالہ بیٹی کے لیے سخت حدود مقرر کر رکھی ہیں۔ بیٹی کو صرف انسٹاگرام استعمال کرنے کی اجازت ہے، وہ بھی والدہ کے فون اور ٹیبلیٹ پر مکمل نگرانی کے ساتھ۔ اسنیپ چیٹ وہ بالکل بھی استعمال کرنے نہیں دیتیں۔ "وہ بار بار اسنیپ چیٹ بنانے کی کوشش کرتی ہے اور میں ہر بار وہ اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیتی ہوں۔”
انہوں نے کہا کہ وہ پلیٹ فارمز پر مکمل پابندی کی حامی نہیں، کیونکہ اصل ضرورت مضبوط نگرانی کی ہے۔ "ایک غلط ویڈیو دیکھنے سے ہی الگورتھم بڑی عمر کا مواد دکھانا شروع کر دیتا ہے، یہ بہت تیزی سے بگڑ سکتا ہے۔”
ام امیرہ کے مطابق 16 سال کی عمر بھی غیر فلٹرڈ سوشل میڈیا کے لیے کم ہے۔ "زیادہ تر نوجوان 20 سال تک بھی ناپختہ ہوتے ہیں۔ یو اے ای میں قانونی ذمہ داری 21 سال سے شروع ہوتی ہے۔”
وہ فیملی لنک ایپ کے ذریعے اسکرین ٹائم، ویب سائٹس کی پابندی، سرچ فلٹرز اور ڈیوائس لاکنگ کنٹرول کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا کوئی سسٹم حکومتی سطح پر متعارف ہو جائے تو بہت فائدہ ہوگا۔
کم عمر صارفین کے لیے عمر کی حد بائی پاس کرنا بھی عام ہے۔ 13 سالہ علی عبداللہ نے بتایا کہ وہ غیر عمر-موزوں گیمز ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے کبھی کبھار جعلی عمر درج کرتا ہے۔ "میں نے کئی بار اپنی عمر 18 یا 32 سال تک لکھ دی ہے تاکہ گیم ڈاؤن لوڈ ہو جائے۔”
علی نے کہا کہ ہم عمروں کا دباؤ انہیں ایسے فیصلوں پر مجبور کرتا ہے۔ وہ بھی ٹک ٹاک اور انسٹاگرام چاہتا ہے مگر والدین حساس مواد کے خدشے کے باعث اجازت نہیں دیتے۔
العین میں ایک اسکول کی سوشل ورکر مہرا الخیلی کے مطابق ایپس پر پابندی اصل مسئلے کو نہیں حل کرتی، کیونکہ بچوں کی ڈیجیٹل آگاہی بڑوں سے کہیں زیادہ ہے۔ "اصل حفاظت والدین اور اسکول کے اشتراک سے ممکن ہے۔” انہوں نے بتایا کہ غیر مناسب مواد بچوں کے رویے اور جذبات پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نگرانی کے ٹولز مدد تو دیتے ہیں مگر کافی نہیں ہوتے۔ "جب بچوں کو پابندی کی وجہ سمجھ آتی ہے، تو وہ بغیر نگرانی کے بھی بہتر فیصلے کرتے ہیں۔”
والدین کا مجموعی مؤقف یہی ہے کہ بچوں کی آن لائن حفاظت پابندیوں سے نہیں بلکہ ڈیجیٹل تعلیم، ذمہ دارانہ نگرانی، گھر میں کھلی بات چیت، اور الگورتھم کو سمجھنے سے ممکن ہے۔







