
خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات نے پورٹ سوڈان اتھارٹی کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوڈان کے داخلی تنازع میں کسی بھی گروہ یا مسلح دھڑے کی حمایت کے دعوے بے بنیاد اور ثبوت سے عاری ہیں۔
اماراتی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ "یہ الزامات محض کمزور میڈیا سٹنٹس ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں”۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ "نام نہاد پورٹ سوڈان اتھارٹی نہ تو سوڈان کی قانونی حکومت کی نمائندہ ہے اور نہ ہی اس کے معزز عوام کی ترجمانی کرتی ہے”۔
واضح رہے کہ پیر کے روز پورٹ سوڈان اتھارٹی نے یو اے ای پر الزام لگایا تھا کہ اس نے حکومت کے حامی فوجی دستوں کے خلاف ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کی مدد کے لیے کولمبیا کے کرائے کے فوجیوں کی خدمات حاصل کیں۔ یو اے ای نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بے بنیاد دعوے ہیں جن کا مقصد سوڈان کی خانہ جنگی کو طول دینا اور امن قائم کرنے کی تمام کوششوں کو ناکام بنانا ہے۔
اماراتی وزارت خارجہ نے دی ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف کے حالیہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے مئی میں سوڈان کی جانب سے یو اے ای کے خلاف دائر کردہ نسل کشی کے مقدمے کو ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دیا تھا۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کے پینل کی رپورٹ میں بھی یو اے ای کے خلاف کوئی ثبوت نہیں پایا گیا۔
یو اے ای نے ایک بار پھر عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سوڈان میں فریقین کے اثر و رسوخ سے آزاد ایک شہری قیادت پر مبنی سیاسی عمل کی حمایت کرے تاکہ فوری جنگ بندی اور پائیدار امن کے لیے راہ ہموار ہو سکے۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ "یہ الزامات محض امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہیں تاکہ خانہ جنگی ختم کرنے کی اخلاقی، قانونی اور انسانی ذمہ داریوں سے بچا جا سکے”۔
یو اے ای نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ جنگ بندی، شہریوں کے تحفظ، اور مظالم میں ملوث افراد کے احتساب کے لیے تمام بین الاقوامی و علاقائی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا اور سوڈان کے پرامن و مستحکم مستقبل کے لیے کام کرتا رہے گا۔






