متحدہ عرب امارات

یو اے ای کے مکین گرمیوں کی چھٹیاں پہلے سے پلان کرنے لگے، ویزا تاخیر اور بڑھتے سفری اخراجات وجہ بن گئے

خلیج اردو
یو اے ای میں مقیم افراد اس سال گرمیوں کی تعطیلات کے لیے معمول سے کہیں پہلے منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جس کی بڑی وجہ یورپی ویزا میں تاخیر، محدود اپائنٹمنٹس اور سفری پیکجز کی بڑھتی قیمتیں ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں چھٹیاں منسوخ ہونے کے تجربات نے شہریوں کو محتاط بنا دیا ہے۔

دبئی گولڈ اینڈ ڈائمنڈ پارک سے وابستہ تاجر امِت جین بھی ان افراد میں شامل ہیں جو گزشتہ سال سفر سے محروم رہ گئے تھے۔
ان کا کہنا ہے، “گرمیوں میں سفر ہمارے خاندان کے لیے بہت اہم ہے۔ ہم پچھلے تین برسوں سے یورپ جانے کا منصوبہ بنا رہے تھے، بچے مسلسل ٹکٹ بک کروانے کا کہتے رہے، مگر ویزا نہ ملنے کی وجہ سے سب کچھ منسوخ کرنا پڑا۔”

امِت جین کے مطابق گزشتہ سال صرف انہیں ویزا ملا جبکہ باقی خاندان کو نہیں، جس کے باعث مشترکہ سفر ممکن نہ ہو سکا۔
“اس تجربے سے سیکھتے ہوئے ہم نے اس سال بہت پہلے تیاری شروع کر دی ہے اور خوش قسمتی سے مارچ کے آخر کی ویزا اپائنٹمنٹ حاصل کر لی ہے،” انہوں نے کہا۔

ٹریول ایجنٹس کے مطابق یورپ کے لیے ابتدائی انکوائریز میں واضح اضافہ دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر اسکول جانے والے بچوں والے خاندان اور وہ مسافر جو ماضی میں شینگن ویزا تاخیر یا مہنگے سفری اخراجات کا سامنا کر چکے ہیں۔ اب کئی افراد جنوری سے ہی ویزا، فلائٹس اور ہوٹل بکنگ کی منصوبہ بندی شروع کر دیتے ہیں۔

وائز فاکس ٹورازم کے سینئر منیجر صابر تھیكی پوراتھ والا پلّل کا کہنا ہے کہ یورپ اب بھی سب سے مقبول منزل ہے۔
ان کے مطابق، “گزشتہ سال جن لوگوں کی چھٹیاں رہ گئیں، وہ دوبارہ یہ خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔ شینگن ویزا ایک بڑا مسئلہ رہا، اسی لیے لوگ اب کئی ماہ پہلے منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔”

ٹریول ایجنٹس کا کہنا ہے کہ شینگن ویزا اپائنٹمنٹس مارچ تک تقریباً مکمل ہو چکی ہیں، جبکہ اپریل میں بھی محدود مواقع دستیاب ہیں۔ انٹرنیشنل ٹریول سروسز کے منیجر میر وسیم راجہ نے خبردار کیا کہ تاخیر کرنے والوں کے لیے گرمیوں میں یورپ جانا مشکل ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے، “جو لوگ یورپ جانا چاہتے ہیں، انہیں ابھی سے عمل شروع کرنا ہوگا، ورنہ دوبارہ محرومی کا خدشہ ہے۔”

ماہرین کے مطابق سخت ویزا شرائط اور مہنگے سفری اخراجات کے باعث قبل از وقت منصوبہ بندی اب ایک رجحان بن چکی ہے، کیونکہ مسافر کسی بھی صورت اپنی چھٹیاں ضائع نہیں کرنا چاہتے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button