متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں سی بی ایس ای نظام اپنایا گیا، جنگ کے باعث بارہویں جماعت کے امتحانات متاثر، اساتذہ پر اضافی بوجھ بڑھ گیا

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں سی بی ایس ای سے منسلک اسکولوں نے امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے باعث بارہویں جماعت کے طلبہ کے امتحانات متاثر ہونے پر نیا گریڈنگ نظام اپنا لیا ہے۔

مغربی ایشیا میں امتحانی شیڈول متاثر ہونے کے بعد سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن نے کئی پرچے منسوخ یا ملتوی کر دیے، جس سے ہزاروں طلبہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے۔

اب نئے طریقہ کار کے تحت اسکولز طلبہ کے اندرونی امتحانات اور سابقہ کارکردگی کی بنیاد پر نتائج تیار کر رہے ہیں تاکہ طلبہ کو منصفانہ نمبرز دیے جا سکیں۔

تعلیمی بورڈ نے ایک تفصیلی ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس کے مطابق بارہویں جماعت کے طلبہ کے لیے متبادل جانچ کا نظام نافذ کیا گیا ہے، جس میں بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور ایران کے اسکول بھی شامل ہیں۔

اسکول انتظامیہ کے مطابق یہ عمل نہایت محنت طلب ہے۔ ماہر تعلیم پرمود مہاجن نے بتایا کہ "اسکولز کو سہ ماہی، ششماہی اور پری بورڈ امتحانات میں سے بہترین نمبرز جمع کرا کے پورٹل پر اپ لوڈ کرنے ہوں گے۔”

نظریاتی مضامین کے لیے طلبہ کی سابقہ کارکردگی کو بنیاد بنایا جائے گا، جبکہ عملی امتحانات اور اندرونی اسیسمنٹ کے نمبرز بغیر تبدیلی کے شامل کیے جائیں گے، جن کا تناسب مختلف مضامین میں برقرار رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ "اساتذہ کے لیے یہ عمل مشکل ضرور ہے مگر موجودہ حالات میں یہی سب سے عملی حل ہے۔” تاہم انہوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ پری بورڈ امتحانات سخت ہوتے ہیں، اس لیے طلبہ کی اصل صلاحیت مکمل طور پر ظاہر نہیں ہو پاتی۔

تعلیمی ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ نظام حالات کے مطابق مناسب ہے، لیکن اس میں انصاف اور طلبہ کی حقیقی کارکردگی کے درمیان توازن قائم رکھنا ایک بڑا چیلنج رہے گا۔

ایک اسکول پرنسپل ابھلاشا سنگھ نے کہا کہ "چونکہ فائنل امتحانات نہیں ہو سکے، اس لیے اب طلبہ کی کارکردگی مکمل طور پر اندرونی جائزوں پر منحصر ہوگی، جبکہ عملی امتحانات پہلے ہی مکمل ہو چکے ہیں۔”

دوسری جانب عجمان کے ایک اسکول کے سربراہ بھانو شرما کے مطابق اسکولز کو ہدایت دی گئی ہے کہ 13 اپریل 2026 تک تمام نمبرز اپ لوڈ کیے جائیں اور تمام ریکارڈ محفوظ رکھا جائے تاکہ بورڈ کی جانچ پڑتال کی جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمت عملی ماضی کے کورونا دور سے مختلف ہے، جب نتائج کا تعین نویں، دسویں اور گیارہویں جماعت کے اوسط نمبرز کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button