
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں مقیم مسافروں کو آئندہ امریکہ کا سیاحتی ویزا حاصل کرنے کے لیے فیس بک، انسٹاگرام یا دیگر ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک رسائی دینا پڑ سکتی ہے۔ امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن (سی بی پی) نے ایک نئی تجویز پیش کی ہے جس کے مطابق امریکہ آنے والے مسافروں کی گزشتہ پانچ برس تک کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی تفصیلی جانچ پڑتال کی جا سکتی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس مجوزہ قانون نے عوام میں رازداری کے حقوق اور اظہارِ رائے کی آزادی سے متعلق سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ دبئی میں موجود امریکی وکیل شائی زمانین نے کہا کہ لوگ فکر مند ہیں کہ ان کی پرانی سوشل میڈیا پوسٹس کھنگالنے سے ان کے نجی خیالات سامنے آ سکتے ہیں جن کا سیکیورٹی سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ یہ ڈیٹا محفوظ کیسے کیا جائے گا اور آیا یہ اقدام ملک کی سیکیورٹی کو واقعی مضبوط بنائے گا۔
امریکی حکام کی جانب سے جمع کرائی گئی حالیہ دستاویز کے مطابق ویزا درخواست گزاروں سے بہت وسیع معلومات طلب کی جا سکتی ہیں جن میں گزشتہ دس برس کے ای میل پتے، سوشل میڈیا شناختیں، والدین، بہن بھائیوں، شریک حیات اور بچوں کے نام، تاریخِ پیدائش اور رہائش کی تفصیلات شامل ہوں گی۔ اس وقت ویزا ویور پروگرام کے تحت مسافر صرف 40 ڈالر فیس اور بنیادی معلومات جمع کرا کے دو برس کے لیے امریکہ کا اجازت نامہ حاصل کر لیتے ہیں، لیکن نئی تجویز اس پورے نظام کو خاصا سخت بنا سکتی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ اور ہوم لینڈ سیکیورٹی ایکٹ کے تحت امریکہ کو وسیع اختیارات حاصل ہیں، جن کے ذریعے وہ ملک میں داخل ہونے والوں کی مکمل چھان بین کر سکتا ہے۔ اسی لیے سوشل میڈیا اسکریننگ کو امریکی قوانین کے تحت جائز قرار دیا جا رہا ہے۔
اس نئی تجویز نے یہ سوال بھی پیدا کیا ہے کہ امریکہ نے یہ قدم اب کیوں اٹھایا ہے؟ ماہرین کے مطابق ویزا ویور پروگرام کے تحت لاکھوں افراد کم ترین نگرانی کے بعد امریکہ آ جاتے ہیں، جسے امریکی حکام ممکنہ سیکیورٹی خلا سمجھتے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں یورپ میں ہونے والے مختلف دہشت گرد حملوں اور آن لائن انتہا پسندی کے واقعات نے امریکی ایجنسیوں کو اس صورتحال پر مزید متوجہ کیا ہے۔ نیس حملے، لندن برج واقعے اور جرمنی میں ناکام حملوں تک کئی کیسز ایسے سامنے آئے جن میں حملہ آوروں کی آن لائن سرگرمیوں نے خطرناک رجحانات کی نشاندہی کی تھی۔ اسی وجہ سے امریکی حکام اب سوشل میڈیا کی جانچ کو جدید سرحدی سیکیورٹی کا لازمی حصہ قرار دے رہے ہیں۔
دبئی کے سائبر سیکیورٹی ماہر ریاض کمال ایوب کا کہنا ہے کہ اس تجویز نے رازداری کے حقوق کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی آئین کی چوتھی ترمیم غیر معقول تلاشی و تحویل سے شہریوں کو تحفظ دیتی ہے، اس لیے حکومت کو سیکیورٹی اور انفرادی آزادیوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا۔ ان کے مطابق اگر یہ تجویز نافذ ہو جاتی ہے تو مسافروں کو سرحدوں پر مزید سخت جانچ، ممکنہ تاخیر اور اپنی آن لائن سرگرمیوں کی بنیاد پر داخلے سے محرومی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے عالمی مسافروں کی رازداری، آزادانہ اظہار اور آن لائن سرگرمیوں پر نمایاں دباؤ پڑ سکتا ہے جس کے باعث امریکہ کا سفر مزید حساس اور پیچیدہ ہو جائے گا۔







