
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات نے اماراتی شہریوں کو نجی شعبے میں روزگار فراہم کرنے کے لیے نافس پروگرام کو 2040 تک توسیع دے دی ہے۔ اس کے تحت ستمبر 2026 سے نئی اصلاحات نافذ ہوں گی، جن میں تنخواہی معاونت، خاندانی مراعات اور مہارت پر مبنی ملازمتوں پر خصوصی توجہ شامل ہے۔
نافس پروگرام ستمبر 2021 میں شروع کیا گیا تھا، جس کا مقصد سرکاری ملازمتوں پر انحصار کم کر کے اماراتی شہریوں کو نجی شعبے میں مواقع فراہم کرنا ہے۔ یہ منصوبہ “پروجیکٹس آف دی ففٹی” کا حصہ تھا اور اس کے لیے 24 ارب درہم کا بجٹ مختص کیا گیا تھا۔
اس پروگرام کے تحت تنخواہوں میں معاونت، بچوں کے الاؤنس، پنشن سپورٹ، تربیتی پروگرام، انٹرن شپ اور کیریئر رہنمائی فراہم کی جاتی ہے تاکہ اماراتی نوجوانوں کو پائیدار روزگار مل سکے۔
حکام کے مطابق اب تک نافس کے ذریعے ایک لاکھ چھہتر ہزار سے زائد اماراتی شہریوں کو روزگار ملا، جبکہ ایک لاکھ باون ہزار نجی کمپنیوں میں کام کر رہے ہیں۔ اس پروگرام سے بتیس ہزار سے زائد ادارے مستفید ہوئے اور یہ اپنے ابتدائی ہدف سے پہلے ہی آگے نکل گیا۔
ستمبر 2026 سے نافس کے نئے مرحلے کا آغاز ہوگا، جس کے تحت موجودہ مستفید افراد کو تین سال کے دوران مرحلہ وار نئے نظام میں منتقل کیا جائے گا۔ بعض مالی معاونت ہر چھ ماہ بعد 500 درہم کم کر کے نئی سطح پر لائی جائے گی۔
حکومت نے 2026 کو “سالِ خاندان” قرار دیتے ہوئے نئی خاندانی مراعات کا اعلان بھی کیا ہے۔ ان میں بچوں کے الاؤنس پر حد کا خاتمہ، اماراتی ماؤں کے بچوں کے لیے ماہانہ 3,000 درہم تک معاونت، اور نجی شعبے میں کام کرنے والے اماراتی مردوں کی اہلیہ کے لیے بھی مالی مدد شامل ہے۔
نئے فریم ورک کے تحت کم از کم تنخواہ 6,000 درہم مقرر کی گئی ہے، جبکہ زیادہ سے زیادہ ماہانہ معاونت ڈگری ہولڈرز کے لیے 6,000، ڈپلومہ ہولڈرز کے لیے 5,000 اور ثانوی تعلیم یافتہ افراد کے لیے 4,000 درہم تک ہوگی۔
نافس کا اگلا مرحلہ بینکاری، مصنوعی ذہانت، رئیل اسٹیٹ اور دیگر اسٹریٹجک شعبوں میں مہارت رکھنے والی اماراتی افرادی قوت کی تیاری پر مرکوز ہوگا۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام صرف مالی امداد نہیں بلکہ اماراتی شہریوں کو نجی شعبے میں مسابقتی اور پائیدار کیریئر فراہم کرنے کا ایک جامع منصوبہ ہے۔







