متحدہ عرب امارات

ویڈیو: یو اے ای اور اردن کے طیاروں کی غزہ پر 25 ٹن امدادی سامان کی فضائی فراہمی

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات اور اردن کے طیاروں نے اتوار کے روز غزہ پٹی پر 25 ٹن انسانی ہمدردی پر مبنی امدادی سامان گرایا۔ اردنی فوج کے مطابق، یہ کاروائی غزہ میں قحط سالی اور خوراک کی شدید قلت کے تناظر میں کی گئی۔ یو اے ای نے اپنی جاری انسانی مشن ‘گیلنٹ نائٹ 3’ کے تحت 54ویں مرتبہ ‘پرندے خیر سگالی کے’ (Birds of Goodness) کے عنوان سے فضائی امداد گرائی ہے۔

اردنی افواج کے بیان میں کہا گیا کہ "اتوار کے روز اردنی مسلح افواج نے غزہ پر تین فضائی امدادی آپریشنز انجام دیے، جن میں سے ایک یو اے ای کے ساتھ مشترکہ طور پر کیا گیا۔ ان طیاروں پر مجموعی طور پر 25 ٹن امدادی سامان موجود تھا۔”

ایک روز قبل، 26 جولائی کو، یو اے ای کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان نے اعلان کیا تھا کہ غزہ میں انسانی بحران کی شدت کے پیش نظر فضائی امدادی مشن فوری طور پر دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں صورتحال نازک اور بے مثال سطح تک پہنچ چکی ہے، جس کے باعث مسلسل اور مربوط عالمی امدادی کوششوں کی فوری ضرورت ہے۔

متحدہ عرب امارات نے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں امداد کی فراہمی انسانی ترجیح رہے گی اور یو اے ای علاقائی و عالمی شراکت داروں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی سے یہ امداد زمین، سمندر اور فضا کے ذریعے متاثرہ علاقوں تک پہنچاتا رہے گا۔

اب تک غزہ پٹی میں پہنچنے والی عالمی امداد میں سے 44 فیصد امداد متحدہ عرب امارات کی جانب سے فراہم کی جا چکی ہے۔ ‘پرندے خیر سگالی کے’ فضائی مہم کا مقصد غزہ کے ان علاقوں میں متاثرہ شہریوں کو امداد پہنچانا ہے جو زمینی راستے سے ناقابل رسائی ہیں۔

یہ امدادی مہم شروع ہونے کے بعد سے اب تک 193 طیاروں کے ذریعے تقریباً 3,725 ٹن غذائی اور ضروری سامان غزہ پر گرایا جا چکا ہے، جن میں بنیادی خوراک اور متاثرہ خاندانوں کی ضروریات کو پورا کرنے والا سامان شامل ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ غیر ملکی ممالک کو جمعہ سے غزہ میں فضائی امداد گرانے کی اجازت دی جائے گی۔ اسرائیلی فوج نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ غزہ کے مخصوص علاقوں میں روزانہ صبح 10 بجے سے شام 8 بجے تک فوجی کارروائیاں روک دے گی جہاں فی الحال کوئی آپریشن جاری نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button