
خلیج اردو
امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث ممکنہ ایندھن بحران کے تناظر میں ایشیائی ممالک کی توانائی صلاحیت کا جائزہ لیا گیا ہے، جس میں چند ممالک نسبتاً زیادہ مستحکم نظر آتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق وہ ممالک اس بحران کا بہتر مقابلہ کر سکتے ہیں جو یا تو اپنا تیل خود پیدا کرتے ہیں جیسے برونائی اور ملیشیا، یا وہ جو بڑی حد تک قابلِ تجدید توانائی پر انحصار کرتے ہیں جیسے لاؤس اور میانمار۔
لاؤس میں تقریباً 75 سے 80 فیصد بجلی ہائیڈرو پاور سے پیدا ہوتی ہے اور اسے “جنوب مشرقی ایشیا کی بیٹری” بھی کہا جاتا ہے، جبکہ میانمار میں 44 سے 54 فیصد بجلی قابلِ تجدید ذرائع سے حاصل ہوتی ہے، جس سے ان ممالک کا فوسل فیول پر انحصار کم ہو جاتا ہے۔
دیگر ممالک میں ویتنام (44 فیصد)، کمبوڈیا (30–40 فیصد) بھی درمیانی حد تک بہتر پوزیشن میں ہیں، تاہم فلپائن، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ اب بھی کوئلے اور گیس پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
جبکہ سنگاپور اور تیمور-لیسٹے جیسے ممالک محدود وسائل کے باعث زیادہ خطرے میں ہیں کیونکہ وہ درآمدی ایندھن پر انحصار کرتے ہیں۔
مشرق بعید کے بڑے ممالک میں چین 60 فیصد سے زائد قابلِ تجدید توانائی کے ساتھ مضبوط پوزیشن میں ہے، جبکہ جاپان اور جنوبی کوریا نسبتاً کم سطح پر ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مجموعی طور پر وہ ممالک زیادہ محفوظ ہیں جو توانائی کے متبادل ذرائع رکھتے ہیں یا بیرونی ایندھن پر کم انحصار کرتے ہیں، جبکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک کو زیادہ خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔







