متحدہ عرب امارات

جیسے اسٹار لنک، ویسے ہی اب جیف بیزوس کا لیو الٹرا: ایک گیگا بائٹ تک رفتار دینے والا نیا مقابلہ

خلیج اردو
عالمی خلا کی دوڑ میں ایک نیا مقابلہ سامنے آ گیا ہے جہاں ایلون مسک کے اسٹار لنک کے بعد اب جیف بیزوس کی ایمیزون کمپنی بھی میدان میں آ گئی ہے۔ ایمیزون نے اپنے کم مدارِ ارضی سیٹلائٹ سسٹم کو نئے نام لیو الٹرا کے تحت پیش کیا ہے، جو بیزوس کے خلائی منصوبے کو اسٹار لنک کا براہِ راست اور مضبوط حریف بناتا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس مشن کا مقصد دنیا کے ان علاقوں تک تیز اور قابلِ بھروسہ انٹرنیٹ پہنچانا ہے جہاں آج بھی رابطہ ناکافی ہے۔

ایمیزون لیو الٹرا کو انٹرپرائز گریڈ ڈیوائس قرار دیا گیا ہے جو خراب موسم میں بھی مستحکم کنیکٹیویٹی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کی کسٹمر ڈش 20 انچ بائی 30 انچ کے سائز میں ہے، جسے کھمبے یا کسی بھی جگہ نصب کرنا آسان ہے۔ کارکردگی کے لحاظ سے یہ ڈیوائس ایک گیگا بائٹ فی سیکنڈ تک ڈاؤن لوڈ اور 400 میگا بائٹ فی سیکنڈ تک اپ لوڈ کی رفتار دینے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو دور دراز علاقوں میں کاروبار، ریسکیو ٹیموں اور ڈیٹا پر چلنے والے اداروں کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

اگرچہ حقیقی رفتار سیٹلائٹس کی تعداد اور موسمی حالات سے متاثر ہو سکتی ہے، مگر ان اعداد و شمار نے اسے اسٹار لنک کے براہِ راست مقابلے میں لا کھڑا کیا ہے۔ مبصرین کے مطابق لیو الٹرا کی آمد سے دونوں کمپنیوں کے درمیان ممکنہ قیمتوں کی جنگ بھی شروع ہو سکتی ہے، جس کا فائدہ صارفین کو ہوگا اور سیٹلائٹ انٹرنیٹ مارکیٹ میں مزید جدت آئے گی۔

ایمیزون کے لیو پلیٹ فارم کے تحت اس وقت 150 سیٹلائٹس مدار میں موجود ہیں اور ابتدائی نیٹ ورک ٹیسٹنگ جاری ہے۔ آنے والے برسوں میں ہزاروں مزید سیٹلائٹس خلا میں بھیجے جائیں گے۔ قیمت کے حوالے سے کمپنی نے ابھی کوئی اعلان نہیں کیا، جس کے بعد یہ سوال زیرِ بحث ہے کہ کیا کم قیمت لیو الٹرا کا سب سے بڑا ہتھیار بن سکتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایمیزون اپنے کئی سیٹلائٹس کے لانچ کے لیے اسپیس ایکس کے راکٹس کا بھی استعمال کر رہی ہے، جو اس شعبے میں باہمی انحصار کو ظاہر کرتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ اسٹار لنک اس وقت برتری رکھتا ہے، لیکن لیو الٹرا جیسے حریف کی آمد مسابقت کو بڑھائے گی اور ممکن ہے کہ اسٹار لنک اپنی رفتار اور ٹیکنالوجی مزید بہتر کرنے پر مجبور ہو جائے۔ 2026 لیو الٹرا کے آغاز کا ہدف ہے، اور اس وقت تک دنیا کی نظریں اس بات پر مرکوز رہیں گی کہ آیا جیف بیزوس اس دوڑ میں برتری حاصل کر پاتے ہیں یا اسٹار لنک کی برتری مزید مضبوط ہوتی ہے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button