متحدہ عرب امارات

ابوظبی میں معیارِ زندگی کا اسکور 67 سے بڑھ کر 84 فیصد ہوگیا، شہریوں کی ضروریات کے مطابق انفراسٹرکچر کی منصوبہ بندی

خلیج اردو
ابوظبی میں معیارِ زندگی کا اسکور 67 فیصد سے بڑھ کر 84 فیصد ہوگیا ہے، جبکہ امارات میں انفراسٹرکچر کی منصوبہ بندی شہریوں کے روزمرہ تجربات اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جارہی ہے تاکہ کمیونٹیز کے درمیان رابطے مزید مضبوط بنائے جاسکیں۔

منگل کو ابوظبی میں لِو ایکس سیشن سے خطاب کرتے ہوئے محکمہ بلدیات و ٹرانسپورٹ کے ڈائریکٹر جنرل انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ عیسیٰ مبارک المزروعی نے کہا کہ امارات کی حکمت عملی صرف سڑکیں، پل اور دیگر انفراسٹرکچر تعمیر کرنے تک محدود نہیں بلکہ اس بات پر بھی توجہ دی جارہی ہے کہ منصوبوں سے لوگوں کی روزمرہ زندگی پر کیا اثر پڑتا ہے۔

عیسیٰ مبارک المزروعی کے مطابق مقصد صرف منصوبے مکمل کرنا نہیں بلکہ شہریوں کی زندگی میں بہتری لانا اور حقیقی قدر پیدا کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمہ بلدیات و ٹرانسپورٹ شہریوں کے شہر میں تجربات کو سمجھنے کیلئے مختلف ذرائع استعمال کرتا ہے، جن میں آن لائن پلیٹ فارمز، ڈیٹا کا تجزیہ، کمیونٹی اجلاس اور مختلف تقریبات کے دوران حاصل ہونے والی آرا شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جب معیارِ زندگی کی حکمت عملی شروع کی گئی تھی تو اس کا اسکور 67 فیصد تھا، جو اب بڑھ کر 84 فیصد ہوگیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اعداد و شمار پیش رفت کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم شہریوں اور امارات آنے والے افراد کے تجربے کو مزید بہتر بنانے کیلئے مسلسل اقدامات جاری ہیں۔

انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں حالیہ پیش رفت کی مثال دیتے ہوئے بتایا گیا کہ الریم جزیرے کو شیخ خلیفہ بن زاید ہائی وے سے ملانے والے حال ہی میں مکمل کیے گئے دو پلوں کے باعث رش کے اوقات میں سفر کا دورانیہ تقریباً 15 منٹ کم ہوا ہے۔ محکمہ بلدیات و ٹرانسپورٹ کے مطابق منصوبے کا مقصد الریم اور سعدیات جزیروں کے درمیان ای 12 ہائی وے کے ذریعے رابطے کو بہتر بنانا ہے۔

ابوظبی میں سائیکلنگ کا نیٹ ورک بھی تقریباً 900 کلومیٹر سے بڑھا کر 2 ہزار کلومیٹر سے زیادہ کردیا گیا ہے۔ عیسیٰ المزروعی کے مطابق اس طرح کے منصوبوں کی تشکیل میں کمیونٹی اور دیگر متعلقہ فریقوں کی ضروریات اور تجاویز کو مدنظر رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انفراسٹرکچر کو صرف تعمیر شدہ جسمانی اثاثوں کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ ایسے منصوبوں کیلئے حکومتی اداروں، کمیونٹیز اور دیگر متعلقہ فریقوں کے درمیان تعاون ضروری ہے۔ ان کے مطابق مقصد ایسا شہر تشکیل دینا ہے جس پر رہائشی فخر کریں اور جہاں وہ زندگی سے لطف اندوز ہوں، جبکہ ابوظبی میں رہائش، کام یا سرمایہ کاری کے خواہشمند افراد کیلئے بھی شہر کو پرکشش بنایا جاسکے۔

سیشن کے دوران مصنوعی ذہانت کے ذریعے شہری ترقی میں معاونت کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی۔ سیمنز کے چیئرمین اور متعدد کمپنیوں کے بورڈ رکن جم ہیگمین سنیبے نے کہا کہ شہری ترقی میں روایتی طور پر ٹیکنالوجی کی عملی صلاحیت اور مالی استحکام پر زیادہ توجہ دی جاتی رہی ہے، تاہم اب شہروں کیلئے یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ شہری ماحول لوگوں کیلئے کتنا موزوں اور قابلِ رہائش ہے۔

ان کے مطابق ٹیکنالوجی کو زیادہ تر پس منظر میں کام کرتے ہوئے شہری زندگی کو آسان بنانا چاہیے۔ مصنوعی ذہانت ٹریفک کے رجحانات کی پیش گوئی، ٹرانسپورٹ نظام کو بہتر بنانے اور عمارتوں میں توانائی کے استعمال کو منظم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خودکار گاڑیاں مستقبل میں ٹریفک میں گزارے جانے والے وقت کو کم کرسکتی ہیں، جبکہ ذہین عمارتوں کے نظام استعمال کے رجحانات کے مطابق روشنی اور درجہ حرارت کو خودکار طور پر ایڈجسٹ کرسکتے ہیں۔

جم ہیگمین سنیبے نے 15 منٹ کے شہر کے تصور کو بھی اجاگر کیا، جس میں ضروری خدمات اور سہولیات مختصر فاصلے کے اندر دستیاب ہوں۔ ان کے مطابق اس طرح کی منصوبہ بندی مضبوط کمیونٹیز تشکیل دینے میں مدد دے سکتی ہے، تاہم ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال کے ساتھ توازن برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔

مصدر سٹی کے چیف ایگزیکٹو احمد الحسنی نے کہا کہ مصدر سٹی کو ایسے ماحول کی تشکیل کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے جہاں لوگ صرف وقت گزارنے یا آنے کے بجائے رہ سکیں، کام کرسکیں اور کمیونٹی کا حصہ بن سکیں۔

انہوں نے شہر کے پارکس، سکولز، کاروباری مراکز اور رہائشی علاقوں کو روزمرہ زندگی کے گرد تشکیل دیے گئے ایک مربوط نظام کا حصہ قرار دیا۔ ان کے مطابق مصدر سٹی 2006 میں اس وقت قائم کیا گیا جب پائیدار اور ماحول دوست شہری ترقی کا تصور ابھی ابتدائی مراحل میں تھا، جبکہ آج یہاں 200 سے زیادہ کمپنیاں اور وسیع عوامی مقامات موجود ہیں۔

احمد الحسنی کے مطابق کسی شہر کی کامیابی اس بات سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ آیا رہائشی اور کاروباری ادارے وہاں قیام جاری رکھنے کا انتخاب کرتے ہیں اور لوگ خود کو اس جگہ سے کتنا جڑا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے مستقبل کی شہری ترقی میں نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کو بھی اہم قرار دیا اور بتایا کہ 2026 میں طے پانے والے معاہدوں میں تقریباً 24 منصوبے شامل تھے جن کی مجموعی مالیت تقریباً 5 ارب درہم ہے۔

مستقبل کی منصوبہ بندی کے حوالے سے عیسیٰ المزروعی نے کہا کہ ابوظبی نقل و حرکت، ٹیکنالوجی اور شہری مقامات کے استعمال میں آنے والی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے انفراسٹرکچر کی تیاری کررہا ہے۔

ان کے مطابق اس میں نقل و حمل کی ابھرتی ہوئی شکلوں کیلئے منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ خودکار نقل و حرکت اور مصنوعی ذہانت جیسی ٹیکنالوجیز کے مطابق انفراسٹرکچر کو تبدیل کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا بھی شامل ہے۔ محکمہ بلدیات و ٹرانسپورٹ مستقبل کی ضروریات کا اندازہ لگا کر پہلے سے منصوبہ بندی کررہا ہے تاکہ تبدیلیاں آنے کے بعد ردعمل دینے کے بجائے ان کیلئے پہلے ہی تیاری مکمل ہو۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button