
خلیج اردو
ایران نے واضح کیا ہے کہ جنگ بندی معاہدے سے متعلق طے شدہ شرائط مکمل ہونے تک وہ امریکی نمائندوں کے ساتھ براہِ راست مذاکرات نہیں کرے گا، تاہم قطر میں ثالثی کے ذریعے بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا اس ماہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ روکنے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کر چکے ہیں۔
قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے تصدیق کی کہ امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر دوحہ میں موجود ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ ایرانی وفد کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے لیے نہیں آئے۔ دوسری جانب ایران نے بھی کہا ہے کہ اس کا وفد دوحہ پہنچے گا، لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے براہِ راست مذاکرات کے دعوے کی تردید کی ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق ایرانی وفد کی قیادت نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بدھ کے روز قطری ثالثوں کے ساتھ ابتدائی ملاقات ہوگی، جس میں ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی رہائی سے متعلق امور پر گفتگو کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے ابتدائی معاہدے کا ایک اہم نکتہ آبنائے ہرمز سے متعلق بھی ہے، جہاں ایران کی پابندیوں اور بحری گزرگاہ کی بحالی کے طریقۂ کار پر مزید تفصیلی اتفاق رائے درکار ہے۔







