
ترسیل کریں یا انتظار؟ بھارتی، پاکستانی اور فلپائنی کرنسیوں کی کمزوری سے یو اے ای میں مقیم افراد کو فائدہ
خلیج اردو
دبئی: ایشیائی کرنسیاں مسلسل دباؤ کا شکار رہنے کے باعث متحدہ عرب امارات میں مقیم تارکینِ وطن کو ہر درہم کے بدلے زیادہ مقامی کرنسی حاصل ہو رہی ہے۔ بھارتی روپیہ، فلپائنی پیسو اور پاکستانی روپیہ حالیہ برسوں کی کمزور ترین سطحوں کے قریب ٹریڈ کر رہے ہیں، جس سے رقوم وطن بھیجنے والوں کے لیے سازگار مواقع پیدا ہو گئے ہیں۔
بھارتی روپیہ حال ہی میں درہم کے مقابلے میں 24.71 کی نئی کم ترین سطح تک پہنچ گیا، جسے ایک مضبوط ریمیٹنس ونڈو قرار دیا جا رہا ہے۔ ایکسچینج ہاؤسز کے مطابق کئی بھارتی خاندان اپنی ترسیلات کو تقسیم کر رہے ہیں، کچھ رقم فوری طور پر بھیج رہے ہیں جبکہ باقی اس امید پر روک رہے ہیں کہ شرحِ تبادلہ مزید بہتر ہو سکتی ہے۔
فلپائنی پیسو بھی سیاسی دباؤ، سست معاشی نمو اور بدعنوانی سے متعلق تحقیقات کے باعث دباؤ میں ہے اور درہم کے مقابلے میں 15.87 سے 16.07 کے درمیان ٹریڈ کر رہا ہے۔ کرنسی ڈیلرز کے مطابق یہ دور 2022 کے بعد پیسو کے لیے سب سے زیادہ غیر یقینی ادوار میں شمار کیا جا رہا ہے۔ موجودہ صورتحال میں بہتر شرحیں خاندانوں کو اپنی حکمتِ عملی پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر رہی ہیں کہ آیا موجودہ سطح پر رقوم بھیج دی جائیں یا مزید تبدیلی کا انتظار کیا جائے۔
پاکستانی روپیہ بھی مستحکم مگر کمزور سطح پر برقرار ہے اور درہم کے مقابلے میں 76.67 پر ٹریڈ ہو رہا ہے، جو گزشتہ روز کی سطح کے برابر ہے۔
17 دسمبر تک موجودہ شرحِ تبادلہ کے مطابق بھارتی روپیہ 24.71 پر قدرے کمزور، پاکستانی روپیہ 76.67 پر مستحکم جبکہ فلپائنی پیسو 15.92 پر معمولی مضبوط دکھائی دے رہا ہے، جس سے یو اے ای میں مقیم تارکینِ وطن کو ترسیلاتِ زر میں وقتی فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔






