
خلیج اردو
شارجہ میونسپلٹی نے رہائشی علاقوں میں گھروں کی حدود سے باہر لگائے گئے کار پارکنگ شیڈز پر پابندی عائد کر دی ہے۔ حکام کے مطابق مختلف علاقوں میں باقاعدہ انسپکشن کی جا رہی ہے اور خلاف ورزی پر شیڈز ہٹانے کے احکامات اور جرمانے کیے جا رہے ہیں۔
میونسپلٹی کا کہنا ہے کہ پلاٹ کی قانونی حدود سے باہر بننے والا کوئی بھی ڈھانچہ، چاہے اس کا مقصد کچھ بھی ہو، خلافِ قانون تصور ہوگا۔ تاہم، ذاتی پلاٹ کے اندر بنائے گئے شیڈز کے لیے اجازت نامے آسانی سے جاری کیے جاتے ہیں۔
اس فیصلے پر بعض رہائشیوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی ولاز میں اندرونی جگہ محدود ہے، شدید گرمی میں گاڑیوں کا تحفظ ضروری ہے اور بہت سے خاندان پہلے ہی ان شیڈز پر بھاری رقم خرچ کر چکے ہیں۔
شارجہ میونسپلٹی کے ڈائریکٹر ٹیکنیکل سروسز، انجینئر خلیفہ بن حدہ السویدی نے شارجہ ریڈیو کے پروگرام میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ قواعد “شہری نظم و ضبط برقرار رکھنے اور زیرِ زمین انفراسٹرکچر، پانی کی لائنوں اور بجلی کی کیبلز کو نقصان سے بچانے” کے لیے ہیں۔
سوشل میڈیا پر رہائشیوں کا مؤقف ہے کہ اگر شیڈز ٹریفک، پیدل راستوں یا انفراسٹرکچر میں رکاوٹ نہ بنیں تو انہیں اجازت نامے کے تحت اجازت دی جا سکتی ہے۔ گرمیوں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر جانے کے پیش نظر پابندی پر نظرِ ثانی کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔
میونسپلٹی نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ گھر مالکان کو تکنیکی معاونت فراہم کرے گی، جس میں اندرونی پارکنگ کے ڈیزائن میں بہتری اور نجی پلاٹس کے اندر گاڑیوں کی آمد و رفت کو بہتر بنانے میں مدد شامل ہے۔






