
دبئی: متحدہ عرب امارات کی وفاقی سپریم کورٹ نے ہرجانے کی بنیاد پر ایک خاتون کی طلاق کے فیصلے کو معطل کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ دعوے میں نقصان قانونی طور پر ثابت نہیں ہوا اور شوہر نے خاندان کو برقرار رکھنے اور ازدواجی زندگی جاری رکھنے کی کوشش کی۔
عدالت نے قرار دیا کہ خاندان معاشرے کی بنیاد ہے اور اس کا استحکام سماجی ہم آہنگی کے لیے ضروری ہے۔ طلاق صرف اسی صورت دی جا سکتی ہے جب نقصان ثابت ہو اور صلح ممکن نہ ہو۔
خاتون نے طلاق کے لیے مقدمہ دائر کیا تھا جس میں نقصان، جھگڑا، ترکِ ازدواج اور مالی تعاون فراہم نہ کرنے کے الزامات شامل تھے۔ اس کے علاوہ وہ مالی اور حضانت کے حقوق کی بھی طلب گار تھی، جیسے مہر کا بقایا، عدت کے دوران نفقہ، بچوں کی حضانت، رہائش، سہولیات، گھریلو مدد، صحت کی سہولت اور قانونی اخراجات۔
شوہر نے دعووں کو مسترد کیا اور اپنے وکیل کے ذریعے مقدمہ دائر کیا کہ اس کی بیوی نے سابق عدالت کے فیصلے کی تعمیل نہیں کی اور بچوں سے ملاقات سے روک دیا۔ اس نے عدالت کو بتایا کہ اس نے قانونی طور پر مناسب رہائش فراہم کی تھی اور بیوی نے بار بار گھر چھوڑا اور ازدواجی ذمہ داریوں سے انکار کیا۔
ابتدائی عدالت نے طلاق کی درخواست مسترد کر دی تھی اور بچوں کے نفقے میں اضافہ کیا تھا جبکہ شوہر کے دعوے پر بیوی کا نفقہ معطل کیا تھا۔ تاہم اپیل عدالت نے طلاق دے دی اور خاتون کو مالی اور حضانت کے وسیع حقوق دے دیے۔
شوہر نے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا اور کہا کہ نقصان ثابت نہیں ہوا اور صلح ممکن ہے۔ عدالت نے اپیل منظور کی اور کہا کہ خاندان کو برقرار رکھنا قانون کا بنیادی مقصد ہے جہاں صلح ممکن ہو۔
سپریم کورٹ نے طلاق کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا اور واضح کیا کہ نقصان کے بغیر طلاق نہیں دی جا سکتی۔ اگر بعد میں ازدواجی اختلافات برقرار رہیں تو کسی بھی فریق کو نئے کیس دائر کرنے کا حق ہے یا چھ ماہ بعد، بشرطیکہ کوئی نیا نقصان یا اہم تبدیلی ہو۔






