
خلیج اردو
ایشیا کی بیشتر منڈیاں منگل کے روز تیزی کے ساتھ بند ہوئیں، جہاں سرمایہ کاروں نے وال اسٹریٹ پر سال کے پہلے ریکارڈ کو فالو کیا، خاص طور پر مصنوعی ذہانت سے منسلک ٹیکنالوجی شیئرز میں بھاری سرمایہ کاری دیکھی گئی، جبکہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی معزولی کے بعد پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے باعث تیل کی قیمتیں اتار چڑھاؤ کے بعد نسبتاً مستحکم رہیں۔
سرمایہ کاروں کی توجہ ایک بار پھر امریکی مانیٹری پالیسی کی جانب مبذول ہو گئی ہے، کیونکہ رواں ہفتے اہم معاشی اعداد و شمار جاری ہونا ہیں جو ماہ کے اختتام پر ہونے والے فیڈرل ریزرو کے اجلاس سے قبل شرحِ سود سے متعلق فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
تاجروں نے ہفتے کے روز کاراکاس میں ہونے والے اچانک امریکی آپریشن کو بڑی حد تک نظر انداز کیا، جس کے نتیجے میں صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو نیویارک منتقل کیا گیا جہاں ان پر منشیات سے متعلق الزامات کا سامنا ہے۔
اگرچہ ٹیکنالوجی سیکٹر میں زیادہ قیمتوں پر اب بھی کچھ خدشات موجود ہیں، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سال ایکویٹیز کے امکانات مجموعی طور پر مثبت ہیں اور مصنوعی ذہانت بدستور مارکیٹ کا مرکزی موضوع بنی ہوئی ہے۔
سیکسو مارکیٹس کی چیف انویسٹمنٹ اسٹریٹجسٹ چارو چننا کے مطابق عالمی ایکویٹیز اس وقت تک جغرافیائی سیاسی جھٹکوں کو نظر انداز کرتی رہیں گی جب تک وہ سپلائی چین یا مالی حالات کو شدید متاثر نہ کریں، کیونکہ جغرافیائی سیاست اب ایک مستقل حقیقت بن چکی ہے، نہ کہ غیر متوقع عنصر۔ ان کے مطابق اگر آمدنی کی توقعات، لیکویڈیٹی اور شرحِ سود کا ماحول معاون رہا تو خاص طور پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں شیئرز مزید اوپر جا سکتے ہیں۔
یہی رجحان وال اسٹریٹ پر بھی دیکھا گیا، جہاں ڈاؤ جونز انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر بند ہوا، جس میں ایمیزون اور میٹا جیسے ٹیکنالوجی جائنٹس اور توانائی کے بڑے اداروں کی تیزی نے اہم کردار ادا کیا۔ ایس اینڈ پی 500 اور نیسڈیک میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جسے امریکی مینوفیکچرنگ ڈیٹا سے تقویت ملی، جس کے مطابق دسمبر میں مسلسل دسویں ماہ سرگرمیوں میں کمی ہوئی، جس سے فیڈ کو شرحِ سود میں نرمی کی مزید گنجائش مل سکتی ہے۔
یہ اعداد و شمار آئندہ چند روز میں آنے والے روزگار سے متعلق ڈیٹا سے قبل سامنے آئے ہیں، جو مرکزی بینک کو نرمی کے لیے مزید جواز فراہم کر سکتے ہیں، اگرچہ گزشتہ ماہ فیڈ نے عندیہ دیا تھا کہ وہ نرمی کے عمل میں وقفہ کر سکتا ہے۔
ایشیا میں ہانگ کانگ مارکیٹ ایک فیصد سے زائد بڑھی، جبکہ ٹوکیو، شنگھائی، سنگاپور، ویلنگٹن، تائی پے، منیلا اور جکارتہ میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ سیئول کی مارکیٹ میں معمولی کمی رہی، جو ایک روز قبل تین فیصد سے زیادہ بڑھ چکی تھی۔
جنوبی کوریا کی کار ساز کمپنی ہنڈائی کے شیئرز میں بھی اضافہ ہوا، تاہم ابتدائی آٹھ فیصد سے زائد تیزی بعد میں کم ہو گئی، جو لاس ویگاس میں کنزیومر الیکٹرانکس شو کے دوران اس کے انسان نما روبوٹ کے پروٹوٹائپ کی رونمائی کے بعد دیکھنے میں آئی۔ کمپنی کے مطابق یہ اے آئی سے چلنے والا روبوٹ 2028 تک امریکا کے ایک پلانٹ میں کام شروع کر دے گا۔
آسٹریلیا کی مارکیٹ سڈنی میں مجموعی طور پر کمی رہی، تاہم بلیوسکوپ اسٹیل کے شیئرز بیس فیصد سے زیادہ بڑھ گئے، جب کمپنی نے ایک امریکی حریف اور مقامی ادارے کی جانب سے 8.8 ارب ڈالر کی مشترکہ ٹیک اوور پیشکش کا جائزہ لینے کا اعلان کیا۔
تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، حالانکہ پیر کو وینزویلا سے متعلق پیش رفت کے باعث قیمتوں میں 1.7 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ مبصرین کے مطابق اگرچہ وینزویلا کے پاس دنیا کے تیل کے بڑے ذخائر موجود ہیں، تاہم خراب انفراسٹرکچر، کم قیمتیں اور سیاسی غیر یقینی صورتحال تیزی سے پیداوار بڑھانے میں بڑی رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
