
خلیج اردو
یو اے ای میں مقیم افراد کے لیے پیسے بچانا نئے سال کی قراردادوں میں ایک بار پھر سرفہرست رہا ہے۔ ٹولونا کے تازہ سروے کے مطابق 57 فیصد رہائشیوں نے 2026 کے لیے مالی معاملات کو بہتر بنانے یا بچت کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا ہے، جو مسلسل دوسرے سال سب سے اہم ہدف کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اسی دوران کیریئر سے متعلق اہداف بھی نمایاں ہیں، جہاں 37 فیصد افراد نئی ملازمت، بہتر عہدے یا تنخواہ میں اضافے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
سروے سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ مالی نظم و ضبط اب وقتی ردعمل نہیں رہا بلکہ ایک مستقل رویہ بنتا جا رہا ہے۔ 2023 اور 2024 میں بچت کا رجحان تقریباً 50 فیصد کے آس پاس رہا، 2025 میں اس میں نمایاں اضافہ ہوا اور اب 2026 میں بھی یہی سطح برقرار ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ مہنگائی کے دباؤ کے باوجود بچت اب معمول کا حصہ بن چکی ہے۔
ٹولونا کے مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈینی مینڈونکا کے مطابق یو اے ای میں دوسرے سال بھی نئے سال کی قراردادوں کا مرکز بچت ہی ہے، تاہم فرق یہ ہے کہ لوگ اب سخت پابندیوں کے بجائے سمجھ داری سے اخراجات چن رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 54 فیصد رہائشی 2026 میں بڑھتی ہوئی زندگی کی لاگت کو سب سے بڑا خدشہ قرار دیتے ہیں، جبکہ 45 فیصد ذاتی مالی تحفظ اور 44 فیصد رہائش سے متعلق اخراجات کو اہم مسئلہ سمجھتے ہیں۔ اگرچہ خدشات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کچھ کمی آئی ہے، مگر برداشت کی صلاحیت اب بھی فیصلوں پر اثر انداز ہو رہی ہے، جہاں ہر خرچ کی افادیت پر غور کیا جا رہا ہے۔
روزمرہ زندگی میں یہ رجحان خوراک کے انتخاب میں بھی نظر آتا ہے۔ 34 فیصد افراد صحت مند غذا کو ترجیح دینا چاہتے ہیں، تاہم اب صحت مند کا مطلب مہنگا نہیں بلکہ عملی ہے۔ اکثریت تازہ اور کم پروسیسڈ خوراک، غذائیت پر توجہ اور گھریلو کھانا پکانے کو اہم سمجھتی ہے۔ اسی تناظر میں 40 فیصد افراد باہر کھانے پر اخراجات کم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ لگژری مصنوعات اور فوڈ ڈیلیوری بھی کٹوتی کی فہرست میں شامل ہیں۔
سخت مالی کنٹرول کے باوجود سفر وہ شعبہ ہے جسے زیادہ تر افراد محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔ تقریباً تین چوتھائی رہائشی 2026 میں کم از کم ایک بین الاقوامی سفر کا منصوبہ رکھتے ہیں، تاہم اب ترجیح رعایتی آفرز، آل انکلو سیو پیکجز اور لچکدار تاریخوں کو دی جا رہی ہے۔
دیگر اہداف میں خاندانی و سماجی وقت میں اضافہ، کام اور ذاتی زندگی میں توازن اور باقاعدہ ورزش شامل ہیں۔ 89 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ وہ اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کے حوالے سے پُرامید ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اہداف حقیقت پسندانہ رکھے گئے ہیں۔
ایک علیحدہ سروے کے مطابق زیادہ تر افراد ماہانہ اخراجات کا ازسرِنو جائزہ، غیر ضروری سبسکرپشنز ختم کرنے، خودکار بچت اور ایمرجنسی فنڈ بنانے جیسے سادہ مگر مؤثر طریقوں پر انحصار کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 2026 یو اے ای کے لیے سخت کفایت شعاری کا نہیں بلکہ نیت اور توازن کا سال نظر آتا ہے، جہاں بچت اہم ہے، معیارِ زندگی بھی برقرار ہے اور اخراجات میں شعوری فیصلے کیے جا رہے ہیں۔

