
خلیج اردو
جنوبی کوریا نے بھارت، چین، ویتنام، فلپائن، انڈونیشیا اور کمبوڈیا سے آنے والے قلیل مدتی گروپ سیاحوں کے لیے ویزا پروسیسنگ فیس میں رعایت برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کا مقصد ان تیزی سے بڑھتی ہوئی سیاحتی منڈیوں سے سفر کو مزید آسان اور سستا بنانا ہے۔ یونہاپ نیوز ایجنسی کے مطابق C-3-2 شارٹ ٹرم گروپ ویزا فیس میں چھوٹ، جو جلد ختم ہونے والی تھی، اب 30 جون 2026 تک بڑھا دی گئی ہے۔
اس رعایت کے تحت 18 ہزار وون (تقریباً 12.46 امریکی ڈالر) کی ویزا فیس ختم کر دی گئی ہے، جو گروپ سیاحوں کے لیے ایک اہم خرچ تصور کی جاتی ہے۔ چونکہ گروپ ٹورز میں پہلے ہی متعدد اخراجات شامل ہوتے ہیں، اس لیے ویزا فیس کی معافی جنوبی کوریا کو ایک زیادہ پرکشش اور قابلِ رسائی سیاحتی منزل بناتی ہے۔
حکام کے مطابق بھارت، چین، ویتنام، فلپائن، انڈونیشیا اور کمبوڈیا جیسے ممالک میں بیرونِ ملک سیاحت تیزی سے بڑھ رہی ہے، اور انہی منڈیوں کو ہدف بنا کر جنوبی کوریا اپنی ان باؤنڈ ٹورازم کی رفتار برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی کوریا کا سیاحتی شعبہ تیزی سے بحالی کی جانب گامزن ہے۔ نومبر میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں سال بہ سال بنیاد پر 17.3 فیصد اضافہ ہوا اور یہ تعداد 16 لاکھ تک پہنچ گئی، جو کئی منڈیوں میں وبا سے پہلے کی سطح سے بھی زیادہ ہے۔ چین بدستور سب سے بڑا سیاحتی ذریعہ رہا، جس کے بعد جاپان، تائیوان، امریکا اور فلپائن کا نمبر آیا۔ جنوری سے نومبر تک مجموعی طور پر ایک کروڑ 74 لاکھ 20 ہزار غیر ملکی سیاح جنوبی کوریا پہنچے، جو 2025 کے مقابلے میں 15.4 فیصد اور 2019 کے مقابلے میں 8.6 فیصد زیادہ ہے۔
ماہرین کے مطابق ویزا فیس میں چھوٹ سے ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ اور ثقافتی شعبوں میں سیاحتی اخراجات میں اضافہ متوقع ہے، کیونکہ گروپ سیاح عموماً رہائش، کھانے اور سیاحتی مقامات پر زیادہ خرچ کرتے ہیں، جس سے شہری اور علاقائی معیشتوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔
یہ پالیسی جنوبی کوریا کے تاریخی محلات، مندروں، کے پاپ، کے ڈراماز اور کورین کھانوں سمیت ثقافتی ورثے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا بھی موقع فراہم کرتی ہے، جبکہ حاصل ہونے والی آمدن ثقافتی مقامات کے تحفظ میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
ٹریول انڈسٹری کے لیے بھی اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ کم لاگت اور آسان گروپ انتظامات کے باعث ٹور آپریٹرز اور ٹریول ایجنسیوں کی بکنگ اور آمدن میں اضافے کا امکان ہے۔ جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ ابھرتی ہوئی ایشیائی منڈیوں پر توجہ برقرار رکھ کر وہ عالمی سطح پر اپنی مسابقتی حیثیت مضبوط رکھنا چاہتا ہے۔






