
امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز (USCIS) نے اعلان کیا ہے کہ H-1B سمیت کئی امیگریشن اور نان امیگرنٹ ویزوں کی پریمیئم پروسیسنگ فیس میں اضافہ یکم مارچ 2026 سے نافذ ہو جائے گا۔ یہ اضافہ جون 2023 سے جون 2025 کے دوران مہنگائی کی شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
ایجنسی کے مطابق فیس میں اضافہ روزگار سے متعلق ویزوں اور دیگر درخواستوں پر لاگو ہوگا جنہیں بڑی تعداد میں غیر ملکی پروفیشنلز استعمال کرتے ہیں۔
بڑھتی ہوئی قانونی سرگرمیاں
اسی ہفتے ایک امریکی اپیل عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تجویز کردہ 100,000 ڈالر H-1B فیس کے خلاف بزنس اور تحقیقی اداروں کی درخواست پر تیز رفتار سماعت کا فیصلہ کیا ہے، جس کی کارروائی فروری میں متوقع ہے۔ کاروباری تنظیموں کے مطابق فیصلے کا براہ راست اثر H-1B ویزا لاٹری میں شرکت پر پڑے گا۔
نئی پریمیئم فیسیں
مارچ 2026 سے پریمیئم پروسیسنگ کی فیسیں درج ذیل ہوں گی:
Employment-based ویزے
* H-2B یا R-1 (I-129 فارم): 1,685 ڈالر → 1,780 ڈالر
* H-1B، L-1، O-1، P-1، TN (I-129 فارم): 2,805 ڈالر → 2,965 ڈالر
* I-140 امیگرنٹ پٹیشنز: 2,805 ڈالر → 2,965 ڈالر
اسٹیٹس ایکسٹینشن اور ورک اتھورائزیشن
* I-539 (F، J، M ویزے): 1,965 ڈالر → 2,075 ڈالر
* I-765 (ورک اتھورائزیشن/OPT/STEM-OPT): 1,685 ڈالر → 1,780 ڈالر
USCIS کے مطابق اضافی فیس سے ادارے کی خدمات بہتر بنانے، بیک لاگز کم کرنے اور پریمیم پروسیسنگ برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔
H-1B لاٹری نظام میں تبدیلی
محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی بے ترتیب لاٹری کی جگہ ایسا نظام متعارف کرا رہا ہے جو زیادہ تنخواہ اور زیادہ مہارت والے درخواست گزاروں کو ترجیح دے گا، جو 27 فروری سے نافذ ہوگا۔
اثرات
* آجر کمپنیوں اور درخواست گزاروں دونوں کے اخراجات میں اضافہ ہوگا
* H-1B، L-1 اور O-1 پٹیشنز دائر کرنے والی کمپنیوں پر مالی بوجھ بڑھے گا
* طلبہ، خاص طور پر OPT اور STEM-OPT پر موجود افراد متاثر ہوں گے
* مارچ سے پہلے درخواست دینے والے پرانی فیس ادا کریں گے؛ اس کے بعد نئی فیس لاگو ہوگی
ماہرین کے مطابق پریمیم پروسیسنگ اب پہلے سے زیادہ مہنگی ہو رہی ہے، اس لیے کمپنیوں اور امیدواروں کو یہ دیکھنا ہوگا کہ تیز رفتار منظوری کے بدلے اضافی اخراجات قابل برداشت ہیں یا نہیں۔






