متحدہ عرب امارات

دبئی میں پارکنگ فیس میں اضافے کے بعد کرایہ دار مفت پارکنگ کے خواہاں، حق کا انحصار معاہدے پر

خلیج اردو
دبئی میں متغیر پارکنگ ٹیرف سسٹم کے نفاذ اور عوامی پارکنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے بعد کرایہ داروں میں یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ وہ کرایہ ناموں میں پارکنگ کی سہولت کو بغیر اضافی فیس شامل کروائیں تاکہ گھنٹہ وار اور یومیہ بڑھتی ہوئی فیس سے بچا جا سکے۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ ممکن تو ہے، تاہم اس کا مکمل انحصار کرایہ معاہدے میں واضح اور تحریری شقوں پر ہوتا ہے، جبکہ خودساختہ مفروضے اکثر تنازعات کی بنیادی وجہ بنتے ہیں۔

اپریل 2025 میں دبئی نے ٹریفک دباؤ کم کرنے اور طلب کو منظم کرنے کے لیے متغیر پارکنگ ٹیرف متعارف کرایا، جس کے تحت مقام، دن کے اوقات اور طلب کے مطابق فیس مختلف رکھی گئی۔ ڈاؤن ٹاؤن دبئی، بزنس بے، دیرہ اور جمیرا جیسے پریمیم علاقوں میں مصروف اوقات میں زیادہ فیس وصول کی جا رہی ہے، جبکہ آف پیک اوقات اور رات کے وقت پارکنگ مفت ہے۔

اس پالیسی کے اثرات نمایاں رہے، 2025 کی تیسری سہ ماہی میں عوامی پارکنگ کی اوسط لاگت سال بہ سال بنیاد پر 51 فیصد بڑھ کر تقریباً 3.03 درہم فی گھنٹہ تک پہنچ گئی، جس کی بڑی وجہ یومیہ ٹیرف میں اضافہ اور نئی قیمتوں کا ڈھانچہ ہے۔ اس پس منظر میں پارکنگ اب رہائشی کرایہ ناموں میں ایک اہم مذاکراتی نکتہ بن چکی ہے۔

لا فورڈ لیگل ایڈوائزرز کے منیجنگ پارٹنر ایگور ابالوف کے مطابق یہ سوال کہ آیا کرایہ دار بغیر واضح شق کے پارکنگ کا مطالبہ کر سکتا ہے یا نہیں، دبئی کے رینٹل ڈسپیوٹس سینٹر میں سب سے زیادہ زیر بحث مسائل میں شامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کرایہ دار کے حقوق کا فیصلہ مکمل طور پر اس بات پر ہوتا ہے کہ معاہدے میں کیا بات واضح طور پر طے کی گئی ہے، اور پارکنگ کا ذکر نہ ہونا دعووں کو محدود کر دیتا ہے۔

ابالوف نے واضح کیا کہ مخصوص اور مختص پارکنگ اسپیس جو ٹائٹل ڈیڈ میں درج ہو اور عمارت کی عمومی سہولت کے طور پر دستیاب پارکنگ میں فرق ہے، اور جب تک معاہدے میں واضح طور پر مخصوص پارکنگ کا ذکر نہ ہو، کرایہ دار اس کا خودکار حق نہیں جتا سکتا۔ تاہم اگر عمارت میں پارکنگ کا کوئی متبادل انتظام نہ ہو تو بعض صورتوں میں قانون کی تشریح مالک مکان کو اس اسپیس کے استعمال کی اجازت دینے کا پابند کر سکتی ہے۔

بی ایس اے لا کے ایسوسی ایٹ حسن الاغوانی کے مطابق پارکنگ مکمل طور پر ایک معاہداتی معاملہ ہے اور بڑھتی ہوئی عوامی پارکنگ فیس کرایہ معاہدے کی شرائط کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک معاہدے میں پارکنگ کی فراہمی واضح طور پر درج نہ ہو، مالک مکان اس کا پابند نہیں، اور موجودہ معاہدوں میں پارکنگ شامل کرنے کے لیے دونوں فریقین کی باہمی رضامندی سے تحریری ایڈنڈم ضروری ہے۔

قانونی مشیر ڈاکٹر حسن الحیس کے مطابق مشترکہ ملکیت سے متعلق دبئی کے قوانین اور معیاری ایجاری معاہدے پارکنگ کے حقوق کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، بشرطیکہ انہیں درست انداز میں استعمال کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ٹائٹل ڈیڈ میں پارکنگ یونٹ کے ساتھ منسلک ہو تو کرایہ دار اس کا حق رکھتا ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ معاہدے میں واضح طور پر مخصوص پارکنگ اسپیس اور اس کا نمبر درج ہو۔

ماہرین کے مطابق اگر پارکنگ معاہدے کے تحت کرایہ دار کا حق ہو تو پراپرٹی مینیجر اضافی فیس عائد نہیں کر سکتے، اور انکار کی صورت میں کرایہ دار باضابطہ نوٹس دے کر معاملہ رینٹل ڈسپیوٹس سینٹر تک لے جا سکتا ہے، جہاں کرایہ میں ایڈجسٹمنٹ یا معاوضے کا امکان بھی موجود ہے۔ وکلاء کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی پارکنگ لاگت کے تناظر میں بروقت اور واضح معاہدہ بندی دبئی میں رہائش کے مجموعی اخراجات پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button