
خلیج اردو
سربیا کے صدر الیگزینڈر وُوچِچ نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک اپنی واحد آئل ریفائنری این آئی ایس کا مکمل کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کیلئے اضافی قیمت ادا کرنے پر بھی تیار ہے۔ صدر کے مطابق حکومت کی بنیادی ترجیح یہ ہے کہ روسی ملکیتی کمپنی کو امریکی پابندیوں کے اثرات سے نکالا جائے تاکہ سربیا کی توانائی فراہمی محفوظ اور مستحکم رہ سکے۔
صدر وُوچِچ نے کہا کہ پابندیوں کے باعث کمپنی کو مالی اور تجارتی مشکلات کا سامنا ہے، اور سربیا کو توانائی کے شعبے میں خودمختاری کے لئے فوری فیصلے کرنا ہوں گے۔ ان کے مطابق این آئی ایس کے موجودہ روسی مالکان اس وقت ایشیا اور یورپ کے مختلف سرمایہ کاروں سے بات چیت کر رہے ہیں جو کمپنی کو خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہ پیش رفت اس لئے بھی اہم ہے کہ سربیا مستقبل میں توانائی بحران اور بیرونی دباؤ سے بچنے کے لئے ایک آزاد اور محفوظ ڈھانچہ قائم کرنا چاہتا ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر سرمایہ کاروں کے ساتھ کامیاب معاہدہ ہو جاتا ہے تو اس کا اثر صرف کمپنی کے انتظامی ڈھانچے پر ہی نہیں بلکہ ملک کی مجموعی توانائی حکمتِ عملی پر بھی پڑے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سربیا کی یہ کوشش خطے میں توانائی کے توازن پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے کیونکہ این آئی ایس ملک کی واحد بڑی ریفائنری ہے اور ملکی مارکیٹ کا بڑا حصہ اسی سے پورا ہوتا ہے۔

