معلومات

یو اے ای اور جی سی سی کی کمپنیوں کو سائبر سیکیورٹی کے لیے ہیکرز جیسا سوچنا ہوگا

 

خلیج اردو

دبئی: مشرقِ وسطیٰ میں حکومتیں اور کاروباری ادارے جیسے جیسے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے سفر میں تیزی لا رہے ہیں، ویسے ہی سائبر خطرات بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت، آٹومیشن اور ڈیٹا سے چلنے والی معیشت کی جانب پیش قدمی نئے خطرات کے دروازے کھول رہی ہے۔

گروپ آئی بی کی تازہ رپورٹ "سائبر تھریٹ لینڈ اسکیپ اِن مینا اینڈ پاکستان” کے مطابق جنوری سے جولائی 2025 کے دوران دنیا بھر میں 4 کروڑ 20 لاکھ سے زائد اکاؤنٹس ہیک ہوئے، جبکہ 2 لاکھ 24 ہزار سے زیادہ بینک کارڈز ڈیٹا لیک میں شامل تھے، جو مالیاتی فراڈ میں 122 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سائبر حملے اور مالیاتی دھوکہ دہی اب الگ الگ خطرات نہیں رہے بلکہ ایک ہی حملے کی زنجیر کا حصہ بن چکے ہیں۔

نئی سائبر حقیقت
سائبر سیکیورٹی اب صرف آئی ٹی محکموں تک محدود نہیں رہی۔ آج کی ڈیجیٹل معیشت میں ہر شعبہ — آپریشنز سے لے کر فنانس تک — ڈیجیٹل اثاثوں کے دفاع میں کردار ادا کرتا ہے۔ وہ کمپنیاں زیادہ محفوظ ہیں جو ہیکرز کی طرح سوچتی ہیں: خطرات کو پہلے سے بھانپتی ہیں، دفاعی نظام کو آزماتی ہیں اور کمزوریوں کو چھپانے کے بجائے بہتری کے مواقع سمجھتی ہیں۔

فِشنگ اب بھی سب سے بڑا خطرہ بنی ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالیاتی خدمات، انٹرنیٹ اور لاجسٹکس کے شعبے سب سے زیادہ نشانے پر ہیں، جن میں بالترتیب 54، 31 اور 9 فیصد فِشنگ ویب سائٹس کا تعلق انہی صنعتوں سے ہے۔ یہ وہ شعبے ہیں جو خطے کی معیشتوں کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور یو اے ای سینٹینیئل 2071 اور سعودی وژن 2030 جیسے قومی منصوبوں کی کامیابی کے لیے کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

سائبر خطرات سے تحفظ کے لیے محض دفاعی نظام کافی نہیں۔ ماہرین کے مطابق ضرورت اس بات کی ہے کہ ادارے خطرات کی پیشگی نشاندہی کریں، انٹیلی جنس شیئرنگ کے ذریعے معلومات کا تبادلہ بڑھائیں اور ہیکرز کے نیٹ ورک کو ان کے بنیادی ڈھانچے سمیت ختم کریں تاکہ خطے میں ڈیجیٹل اعتماد کو طویل المدتی بنیادوں پر یقینی بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button