متحدہ عرب امارات

عالمی ایئرلائنز کی جانب سے برقی آلات سے متعلق نئے قواعد — یو اے ای کے مسافروں کے لیے اہم ہدایات

خلیج اردو
دبئی: عالمی فضائی اداروں نے حالیہ دنوں میں برقی آلات سے متعلق نئی پابندیاں نافذ کی ہیں، جن کی وجہ لیتھیئم بیٹریوں کے زیادہ گرم ہونے اور دورانِ پرواز آگ لگنے کے بڑھتے خدشات ہیں۔

تین ایئرلائنز نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ بلوتھوت ہیڈفونز کو چیک اِن بیگیج میں رکھنا ممنوع ہوگا، کیونکہ یہ آلات مسلسل فعال رہتے ہیں، جو لیتھیئم آئن بیٹری والے آلات کے لیے مقررہ حفاظتی اصولوں کے خلاف ہے۔

پچھلے ایک ماہ میں دو واقعات میں آگ لگنے کے بعد ان پابندیوں میں اضافہ کیا گیا۔ میلبورن انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پاور بینک پھٹنے سے آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں ایک مسافر جھلس گیا، جب کہ ایئر چائنا کی پرواز میں بھی بیٹری سے آگ لگنے کے باعث طیارے کو ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑی۔

امارات ایئرلائن نے بھی یکم اکتوبر سے پرواز کے دوران پاور بینکس کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔

یو اے ای کی فضائی کمپنیوں کے برقی آلات سے متعلق بنیادی اصول مندرجہ ذیل ہیں:

  • بیٹریاں (20 تک اضافی): صرف ہاتھ کے سامان میں

  • لیتھیئم بیٹریاں (100 تا 160 Wh): منظوری درکار

  • ڈرونز: بعض ایئرلائنز کے تحت مخصوص شرائط کے ساتھ اجازت

  • پاور بینکس اور ای سگریٹ: صرف کیبن بیگیج میں، لیکن دورانِ پرواز استعمال یا چارجنگ ممنوع

  • اسمارٹ بیگز (بیٹری نکالنے کے قابل): اجازت

  • ہائیڈروکاربن گیس والے ہیئر کرلرز: ایک عدد، حفاظتی کور کے ساتھ

دبئی ایئرپورٹ کے مطابق ایک مسافر زیادہ سے زیادہ 15 موبائل فونز لے جا سکتا ہے، جو کمپنی کی اصل پیکنگ میں ہونے چاہئیں۔ گیس ریفلز کسی بھی بیگیج میں ممنوع ہیں۔

ڈرونز کی بیٹریاں لازماً قابلِ تنسیخ ہوں، اور اگر لیتھیئم سے چلنے والی ہوں تو ان کی پاور 160Wh سے زیادہ نہ ہو۔ دو اضافی بیٹریاں صرف کیبن بیگیج میں رکھی جا سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق، پرواز سے قبل مسافروں کو لازماً اپنی متعلقہ ایئرلائن کی ویب سائٹ سے تصدیق کرنی چاہیے تاکہ برقی آلات سے متعلق تمام حفاظتی اصولوں پر عمل کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button