
خلیج اردو
واشنگٹن: امریکی سینیٹرز نے وفاقی حکومت کی فنڈنگ بحال کرنے اور ریکارڈ 40 دن طویل شٹ ڈاؤن ختم کرنے کے لیے دو جماعتی معاہدہ طے کر لیا ہے۔ اس شٹ ڈاؤن کے باعث ملک بھر میں متعدد سرکاری محکمے بند ہو چکے تھے اور ہزاروں ملازمین متاثر ہوئے تھے۔
ڈیموکریٹک اور ری پبلکن سینیٹرز کے درمیان یہ ابتدائی معاہدہ اس بحران کے خاتمے کی جانب پہلا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ سی این این اور فاکس نیوز کے مطابق، معاہدے کے تحت حکومت کو جنوری تک عارضی طور پر فنڈز فراہم کیے جائیں گے تاکہ اہم شعبے دوبارہ فعال ہو سکیں۔
صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں ویک اینڈ گزارنے کے بعد وائٹ ہاؤس پہنچ کر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’’لگتا ہے ہم شٹ ڈاؤن کے اختتام کے بہت قریب ہیں۔‘‘
ری پبلکن اکثریت والی سینیٹ نے اتوار کو فوری طور پر ایک ابتدائی ووٹنگ کی، جس میں کافی تعداد میں ڈیموکریٹس کی حمایت بھی حاصل رہی۔ اب اس بل کو ایوان نمائندگان سے منظور کروایا جائے گا، جس کے بعد صدر ٹرمپ کے دستخط سے اسے حتمی منظوری ملے گی۔
دوسری جانب امریکی ٹرانسپورٹ سیکریٹری شان ڈفی نے خبردار کیا ہے کہ اگر شٹ ڈاؤن جاری رہا تو پروازوں میں تاخیر اور منسوخیوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو جائے گا، خاص طور پر جب تھینکس گیونگ تعطیلات کے دوران لاکھوں امریکی سفر کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
فلائٹ ٹریکنگ سروس فلائٹ اویئر کے مطابق، اتوار تک ملک کے مختلف حصوں میں 2,700 سے زائد پروازیں منسوخ اور تقریباً 10,000 تاخیر کا شکار ہو چکی تھیں، جن میں نیویارک، شکاگو اور اٹلانٹا کے بڑے ہوائی اڈے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔







