
خلیج اردو
اسلام آباد — سینیٹ میں 27 ویں آئینی ترمیمی بل نئی ترامیم کے ساتھ منظور کر لیا گیا۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بل سینیٹ میں پیش کیا، جس پر اپوزیشن ارکان نے ڈیسک بجا کر احتجاج کیا اور ایوان میں شور شرابہ پھیل گیا۔ کچھ ارکان نے بل کی کاپیاں بھی پھاڑ دیں جبکہ پی ٹی آئی نے چیئرمین ڈائس کے سامنے دھرنا دیا۔
شق وار منظوری کے دوران 64 ارکان نے کھڑے ہو کر بل کے حق میں ووٹ دیا، جس میں سیف اللہ ابڑو اور احمد خان بھی شامل تھے۔ جے یو آئی کے چار ارکان نے مخالفت میں ووٹ کیا۔ اپوزیشن کی جانب سے نامنظور کے نعرے چیئرمین سینیٹ نے روکے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ لیڈر آف ہاؤس کی ٹیم نے اہم دستاویزات کا جائزہ لیا اور کچھ ہائی کورٹ کیسز میں درخواستیں چھوڑ دی گئیں۔ سیکنڈ اور تھرڈ ریڈنگ کے دوران قانونی عمل جاری رہا اور فیڈرل کانسپٹ کے تحت مواد ایوان میں پیش کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آرٹیکل 6 کے تحت عدالتیں کسی فیصلے کو ویلیڈیٹ نہیں کر سکتیں۔
سیف اللہ ابڑو کے استعفیٰ کے حوالے سے اعتراض پر چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پارٹی فلور کراسنگ پر الیکشن کمیشن کو ریفرنس بھیج سکتی ہے، مجھے کسی کا کوئی استعفیٰ نہیں ملا، اور زبانی استعفیٰ دینے سے کوئی مستعفی نہیں ہوتا۔ آئین کے مطابق منحرف ارکان کے ووٹ شمار نہیں کیے جا سکتے اور پارٹی لائن کی خلاف ورزی پر آرٹیکل 63 اے لاگو ہوتا ہے۔
سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ لوٹا کریسی اور فریب کو پروموٹ کرنا شرمناک ہے اور ہم لوٹا ازم کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے، جس پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے جواب دیا کہ ووٹ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ رکن خود کرتا ہے، معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیجا جا سکتا ہے اور ڈی سیٹ کے حکم کے خلاف براہ راست اپیل سپریم کورٹ میں دائر ہوتی ہے۔ استعفیٰ کا عمل تحریری طور پر مکمل کرنا ضروری ہے کیونکہ فلور آف ہاؤس پر زبانی استعفیٰ کا کوئی تحریری ریکارڈ موجود نہیں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ ستائیسویں ترمیم میں جہاں غلطیاں رہ گئی تھیں ان میں ترمیم اچھی بات ہے۔ انہوں نے علی ظفر کی تنقید کے جواب میں کہا کہ اگر کوئی ممبر ضمیر کے مطابق ووٹ دیتا ہے تو اس کا ووٹ گنا جاتا ہے، اور بعد میں پارٹی کے پاس حق ہے کہ وہ پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والے ممبر کے خلاف کارروائی کرے، تاہم جب تک پارٹی نوٹس نہیں لیتی، ممبر اپنی حیثیت برقرار رکھتا ہے۔







