سونے کے نرخ

امریکا میں شرحِ سود میں کمی کی توقعات نے دبئی میں سونے کی قیمتوں کو سہارا دے دیا

**خلیج اردو**

دبئی میں سونے کی قیمتیں جمعرات کے روز اپنے حالیہ بلند ترین درجوں کے قریب مستحکم رہیں، کیونکہ عالمی مارکیٹ میں امریکہ کی جانب سے دسمبر میں شرحِ سود میں ممکنہ کمی کی توقعات مزید مضبوط ہوگئی ہیں۔ دبئی میں ریٹیل 24 قیراط سونا 500.25 درہم پر برقرار رہا جبکہ 22 قیراط کی قیمت 463.25 درہم رہی، جو رواں ہفتے کے آغاز کے مقابلے میں معمولی اضافہ ہے۔

نومبر کے دوران قیمتوں میں استحکام اور بتدریج اضافے کا رجحان نمایاں رہا۔ ماہ کے آغاز پر 24 قیراط کی قیمت 482.25 درہم کے قریب تھی جو بعد میں بڑھ کر 495 سے 500 درہم کی رینج تک پہنچی۔ اسی طرح 22 قیراط سونا بھی درمیانی 440 درہم سے بڑھ کر موجودہ 460 درہم سے زائد کی سطح تک پہنچ گیا۔ وسطِ نومبر میں 24 قیراط کی قیمت 504 درہم سے بھی اوپر گئی جبکہ 22 قیراط 467 درہم تک پہنچا، جس کے بعد آج کی محدود رینج میں معمول پر آ گئیں۔

پورے ماہ کے دوران دبئی کی گولڈ مارکیٹ میں انٹرا ڈے اتار چڑھاؤ محدود رہا لیکن مجموعی طور پر قیمتوں کو مستحکم سپورٹ ملی۔ 24 قیراط کی قیمت نے 24 نومبر کو 495 درہم کا نشان چھوا اور 17 سے 23 نومبر کے درمیان چند سیشنز میں 490 درہم سے نیچے بھی رہی۔ آغازِ ماہ میں 3 اور 4 نومبر کو قیمتیں 475.25 سے 483.75 درہم کے درمیان رہیں، جو اکتوبر کے آخر کی 481.50 درہم پر اختتام پذیر ٹریڈنگ کے بعد معمولی کمی تھی۔ 22 قیراط سونا بھی اسی پیٹرن کے تحت 4 نومبر کو 440 درہم کی سطح تک نیچے آیا اور بعد میں 18 سے 21 نومبر کے دوران 453.50 سے 455.50 درہم کے قریب ٹریڈ ہوا۔

مجموعی اوسط کے لحاظ سے نومبر میں 24 قیراط کا ریٹ 488.66 درہم اور 22 قیراط 451.05 درہم کے قریب رہا، جو ظاہر کرتا ہے کہ قیمتوں میں ابتدائی اضافے کو اب زیورات کی خریداری کی جانب سے بہتر سپورٹ مل رہی ہے۔

عالمی سطح پر سونے کی قیمت 4,160 ڈالر فی اونس کے قریب ٹریڈ ہوئی، جو گزشتہ سیشن میں فیڈ حکام کے نرم مؤقف کے بعد 1 فیصد تک بڑھی۔ مارکیٹ میں دسمبر میں 25 بیسس پوائنٹ کی شرحِ سود میں کمی کا امکان اب 80 فیصد کے قریب ہے۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد اس خبر سے بھی بڑھا کہ کیون ہیسٹ فیڈ چیئرمین کے لیے مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کم سود شرح پالیسی کے زیادہ قریب سمجھے جاتے ہیں۔ یہ رجحان تاریخی طور پر سونے جیسے نان اِنٹریسٹ اثاثوں کے لیے فائدہ مند رہا ہے۔

دبئی کی مقامی مارکیٹ میں سرمایہ کاری بالخصوص زیورات کی خریداری کے رجحان نے عالمی سطح پر گولڈ ای ٹی ایف میں گزشتہ تین ہفتوں کی کمزور ان فلو کے باوجود مضبوط کارکردگی دکھائی۔ خریدار اس وقت زیادہ متحرک ہوتے ہیں جب حقیقی شرحِ سود افراطِ زر کے مقابلے میں کم ہو رہی ہو۔

سونا اس سال اب تک تقریباً 60 فیصد بڑھ چکا ہے اور 1979 کے بعد اپنی بہترین سالانہ کارکردگی کی طرف گامزن ہے، جسے مرکزی بینکوں کی بڑھتی ہوئی خریداری اور بانڈز اور دیگر سودی اثاثوں سے عالمی سطح پر انخلا نے مزید تقویت دی ہے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button