
خلیج اردو
امریکی ریاست واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے نزدیک نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس کے فوراً بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔ پولیس کے مطابق فائرنگ میں ملوث ایک مشتبہ شخص کو زخمی حالت میں حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی گئی ہے، جبکہ دو زخمی نیشنل گارڈ اہلکاروں اور مشتبہ حملہ آور کو الگ الگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ دونوں نیشنل گارڈز کی حالت تشویشناک ہے اور فائرنگ کرنے والے کو اس کا مکمل خمیازہ بھگتنا ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق فائرنگ کے وقت صدر ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں موجود نہیں تھے اور فلوریڈا میں تھے، جبکہ واقعے کے بعد وائٹ ہاؤس کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے کے لیے مشترکہ کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر نے بریفنگ میں بتایا کہ حملہ آور اکیلا تھا اور اس کی شناخت 29 سالہ افغان شہری رحمان اللہ کے نام سے ہوئی ہے، جو 2021 میں افغانستان سے امریکہ آیا تھا۔ پولیس نے فنگر پرنٹس کے ذریعے اس کی شناخت کی، تاہم فائرنگ کی وجہ تاحال سامنے نہیں آ سکی۔
صدر ٹرمپ نے واشنگٹن ڈی سی میں سیکورٹی مزید سخت کرنے کے لیے 500 اضافی نیشنل گارڈز تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔





