
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات 2025 میں سیاحوں، ورک پروفیشنلز اور رہائشیوں کے لیے ویزا قوانین میں اہم تبدیلیاں کرتا رہا۔ ان تبدیلیوں کا مقصد عالمی ٹیلنٹ کو متوجہ کرنا، سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور داخلے کے ضوابط کو مزید آسان بنانا تھا۔ اس سال نہ صرف گولڈن ویزا کی نئی کیٹیگریز شامل کی گئیں بلکہ وزٹ ویزا، اسٹیٹس اپڈیٹس اور دستاویزات کے تقاضوں میں بھی بنیادی تبدیلیاں سامنے آئیں۔
ان تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ 11 ایسے چیلنجز بھی سامنے آئے جن کا درخواست گزاروں اور رہائشیوں نے مختلف مراحل میں سامنا کیا، جن میں تنخواہ کے نئے تقاضے، ٹریفک جرمانوں سے لنکڈ ویزا رینیول، پاسپورٹ کور جمع کرانا، اور اسکریننگ میں سختی شامل رہی۔
ذیل میں 2025 کے وہ تمام 11 اہم ویزا قواعد اور تبدیلیاں درج ہیں جو براۂ راست درخواست گزاروں پر اثر انداز ہوئیں:
متحدہ عرب امارات نے ستمبر میں چار نئی وزٹ ویزا کیٹیگریز متعارف کرائیں، جن میں مصنوعی ذہانت کے ماہرین، انٹرٹینمنٹ انڈسٹری، ایونٹس میں شرکت اور لگژری یخٹ و کروز سیاحتی ویزے شامل ہیں۔
ان ویزوں کے لیے سنگل یا ملٹی پل انٹری کی اجازت دی گئی، جس کے لیے صرف متعلقہ ادارے کا سپانسر لیٹر درکار ہوتا ہے۔
وزٹ ویزا کے لیے دوستوں یا رشتہ داروں کو بلانے والے رہائشیوں کے لیے نئی کم از کم تنخواہ مقرر کی گئی، جو تعلق کے مطابق 4000، 8000 یا 15000 درہم مقرر کی گئی۔
ساتھ ہی رشتے کے ثبوت کے لیے دستاویزات بھی لازمی قرار دی گئیں۔
فروری میں ہندوستانی شہریوں کے لیے ویزا آن آرائیول کا دائرہ مزید وسیع کیا گیا اور چھ نئے ممالک کے ریزیڈنٹ کارڈز رکھنے والوں کو بھی اس سہولت میں شامل کر لیا گیا۔
اب آسٹریلیا، کینیڈا، جاپان، نیوزی لینڈ، کوریا اور سنگاپور کے ریزیڈنٹس بھی یو اے ای انٹری پر ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔
اپریل میں اعلان کیا گیا کہ پاکستانی شہری اب پانچ سالہ ملٹی پل انٹری ٹورسٹ ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ ویزا بغیر کسی سپانسر کے بار بار ملک میں داخلے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
ستمبر میں انٹری پرمٹ کے لیے پاسپورٹ کے بیرونی کور کی کاپی جمع کرانا لازمی قرار دے دیا گیا۔
ساتھ ہی ہوٹل بکنگ، ریٹرن ٹکٹ اور واضح پاسپورٹ سائز تصویر بھی لازمی دستاویزات میں شامل ہو گئیں۔
جولائی میں دبئی میں ایک پائلٹ سسٹم متعارف کرایا گیا جس کے تحت رہائشیوں کو ویزا رینیول یا ایشو کے وقت ٹریفک جرمانوں کی ادائیگی لازمی قرار دی گئی۔
ریزیڈنسی اپڈیٹ کرنے سے پہلے تمام بقایا جرمانے کلیئر کرنا ضروری ہے۔
دبئی میں 15 سال سے زائد خدمات انجام دینے والی نرسز کے لیے گولڈن ویزا کا اعلان کیا گیا۔
یہ اقدام صحت کے شعبے میں خدمات انجام دینے والوں کے لیے اعزاز کے طور پر سامنے آیا۔
دبئی نے مواد تخلیق کرنے والے (کنٹینٹ کریٹرز) کے لیے بھی گولڈن ویزا کا اعلان کیا، جس کے لیے ’Creators HQ‘ پلیٹ فارم بنایا گیا ہے۔
سوشل میڈیا انفلوئنسرز، پوڈکاسٹرز اور ڈیجیٹل آرٹسٹ اس کیٹیگری کے تحت درخواست دے سکتے ہیں۔
اکتوبر میں اعلان کیا گیا کہ وقف (Waqf) عطیہ دہندگان کو ’’مالی معاونت کرنے والے انسان دوست افراد‘‘ کی کیٹیگری میں گولڈن ویزا جاری کیا جائے گا۔
Awqaf Dubai ایسے افراد کو نامزد کرے گا جو کابینہ کی مقرر کردہ شرائط پر پورا اتریں گے۔
وزارتِ خارجہ نے گولڈن ویزا ہولڈرز کے لیے بیرون ملک ہنگامی حالات میں قونصلر سروسز فراہم کرنے کی منظوری دی۔
اس میں ایمرجنسی ایویکیوشن، ہنگامی مدد اور بیرون ملک وفات کی صورت میں تدفین یا ریپیٹریئیشن شامل ہے۔
غیر معمولی ماحولیاتی خدمات انجام دینے والوں کے لیے ’بلو ریزیڈنسی‘ کے حصول کے لیے 180 دن کا ملٹی پل انٹری اجازت نامہ جاری کیا گیا۔
اس سہولت کے ذریعے بیرون ملک موجود درخواست گزار UAE آ کر اپنا پراسس مکمل کر سکتے ہیں۔







