
سرخی:
خلیج اردو
بیجنگ: چین نے دفاعی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے جب اس کے دیوقامت فضائی ڈرون کیریئر جیوتیان نے اپنی پہلی کامیاب آزمائشی پرواز مکمل کی۔ ریاستی میڈیا کے مطابق یہ پرواز شانشی صوبے میں انجام دی گئی، جسے چین کی ڈرون ٹیکنالوجی میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ 16 ٹن وزنی، 25 میٹر وِنگ اسپیَن والا بغیر پائلٹ کا فضائی دیو روایتی ڈرون نہیں بلکہ ایک ایسا فلائنگ مدر شپ ہے جو تقریباً 100 چھوٹے ڈرونز یا "کامیکازی” لوِٹرنگ گولہ بارود اپنے ساتھ اٹھا کر بیک وقت لانچ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کا اندرونی ڈھانچہ دونوں اطراف نصب ریک سسٹم کے ذریعے چند سیکنڈز میں ڈرونز کی بڑے پیمانے پر تعیناتی ممکن بناتا ہے۔
چینی فوجی تجزیہ کار سونگ جونگ پنگ کے مطابق جیوتیان ایک ایسا ڈرون کیریئر ہے جو بنیادی طور پر جھٹکے دار اجتماعی حملے، یعنی "سواری فورس سٹرائیک” کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جو جدید ترین ایئر ڈیفنس سسٹمز کو بھی تعداد کی برتری سے زیر کر سکتا ہے۔
پرواز کی ممکنہ صلاحیتیں بھی غیر معمولی بتائی گئی ہیں، جن میں شامل ہیں:
* 15 ہزار میٹر کی بلندی تک پرواز
* 16 ٹن زیادہ سے زیادہ ٹیک آف وزن
* 6 ہزار کلوگرام تک لوڈ
* 12 گھنٹے تک فضائی رہنے کی صلاحیت
* 7 ہزار کلومیٹر تک رینج
ان صلاحیتوں کے باعث یہ ڈرون کیریئر نگرانی، الیکٹرانک وارفیئر اور ہائی پریسیژن اسٹرائیکس جیسے عسکری آپریشنز میں بازی پلٹ سکتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ چین نے اس سسٹم کے شہری استعمال کے امکانات پر بھی زور دیا ہے، جن میں شامل ہیں:
* دور دراز جزیروں تک کارگو کی ترسیل
* ہنگامی رابطہ بحالی
* قدرتی آفات کے بعد امدادی کارروائیاں
* معدنیات اور جغرافیائی سروے
یہ پیش رفت چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ڈرون طاقت کا حصہ ہے، جو خطے میں جاپان، امریکہ اور بحیرہ جنوبی چین کے دیگر ممالک کے لیے تشویش کا باعث بنتی جا رہی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ جیوتیان کی پہلی پرواز صرف ایک تکنیکی کامیابی نہیں، بلکہ دنیا کو بھیجا گیا واضح پیغام ہے کہ چین ڈرون سوارم ٹیکنالوجی کے نئے دور میں داخل ہو چکا ہے اور اب یہ ترقی بے حد تیزی سے آگے بڑھے گی۔







