متحدہ عرب امارات

بونڈائی بیچ فائرنگ میں ہلاک حملہ آور کا تعلق حیدرآباد سے نکلا، بھارتی پولیس کا انکشاف

خلیج اردو
بھارتی پولیس نے بتایا ہے کہ آسٹریلیا کے بونڈائی بیچ میں فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہونے والا مرکزی حملہ آور ساجد اکرم کا اصل تعلق جنوبی بھارتی شہر حیدرآباد سے تھا، تاہم گزشتہ کئی برسوں کے دوران اس کا بھارت میں اپنے خاندان سے رابطہ انتہائی محدود رہا۔ یہ حملہ اتوار کے روز پیش آیا تھا جسے آسٹریلیا میں تقریباً تین دہائیوں کے دوران بدترین اجتماعی فائرنگ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ حکام اس واقعے کو یہودی برادری کو نشانہ بنانے والی دہشت گردی کی کارروائی کے طور پر تفتیش کر رہے ہیں۔

پولیس کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 16 ہو چکی ہے، جن میں خود حملہ آور بھی شامل ہے۔ پولیس نے تصدیق کی کہ 50 سالہ ساجد اکرم کو مقابلے کے دوران گولی مار کر ہلاک کیا گیا، جبکہ اس کا 24 سالہ بیٹا نوید اکرم، جسے مقامی میڈیا نے مبینہ ساتھی حملہ آور قرار دیا ہے، شدید زخمی حالت میں اسپتال میں زیر علاج ہے۔

اے این آئی کے مطابق ساجد اکرم نے حیدرآباد میں اپنی تعلیم مکمل کی اور نومبر 1998 میں، یعنی تقریباً 27 برس قبل، روزگار کی تلاش میں آسٹریلیا منتقل ہوا۔ بعد ازاں اس نے یورپی نژاد خاتون وینرا گروسو سے شادی کی اور مستقل طور پر آسٹریلیا میں آباد ہو گیا۔ ان کے دو بچے ہیں، ایک بیٹا نوید، جو اس حملے میں ملوث بتایا جا رہا ہے، اور ایک بیٹی۔

تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد میں پولیس حکام کے مطابق ساجد اکرم گزشتہ 27 برس کے دوران اپنے خاندان سے صرف محدود رابطے میں رہا۔ آسٹریلیا منتقل ہونے کے بعد اس نے چھ مرتبہ بھارت کا دورہ کیا، جو زیادہ تر خاندانی معاملات، جائیداد کے مسائل اور بزرگ والدین سے ملاقات تک محدود رہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اطلاعات کے مطابق وہ اپنے والد کے انتقال کے بعد بھی بھارت واپس نہیں آیا۔

تلنگانہ پولیس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ خاندان کے افراد نے ساجد اکرم یا اس کے بیٹے کے کسی انتہاپسند نظریے یا سرگرمی سے لاعلمی ظاہر کی ہے اور ان کے بقول انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ایسی سوچ کیسے اور کن حالات میں پروان چڑھی۔ پولیس نے مزید کہا کہ دونوں حملہ آوروں کی انتہاپسندی کے اسباب کا بھارت یا تلنگانہ میں کسی مقامی اثر و رسوخ سے کوئی تعلق ظاہر نہیں ہوتا۔

پولیس کے مطابق بھارت چھوڑنے سے قبل ساجد اکرم کے خلاف کوئی منفی یا مجرمانہ ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ دوسری جانب آسٹریلوی پولیس نے بتایا ہے کہ باپ بیٹے دونوں نے گزشتہ ماہ فلپائن کا سفر کیا تھا، جس میں ساجد اکرم بھارتی پاسپورٹ پر جبکہ اس کا بیٹا آسٹریلوی پاسپورٹ پر گیا۔ حکام کے مطابق اس سفر کے مقاصد کی تحقیقات جاری ہیں اور تاحال یہ بات حتمی طور پر ثابت نہیں ہو سکی کہ آیا ان کا تعلق کسی دہشت گرد تنظیم سے تھا یا انہیں کسی قسم کی تربیت دی گئی تھی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button