
خلیج اردو
دبئی کی سول عدالت نے پولیس افسران کا روپ دھار کر ایک شہری سے 6 لاکھ درہم لوٹنے والے پانچ افراد کو مشترکہ طور پر پوری رقم واپس کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے ملزمان کو مادی اور اخلاقی نقصان کے ازالے کے طور پر 50 ہزار درہم معاوضہ ادا کرنے اور مقدمہ دائر ہونے کی تاریخ سے 5 فیصد قانونی سود کی ادائیگی کا بھی پابند قرار دیا ہے۔
یہ فیصلہ متاثرہ شہری کی جانب سے دائر سول دعویٰ پر سنایا گیا، جس میں اس نے لوٹی گئی رقم کی واپسی، قانونی سود اور ڈیڑھ لاکھ درہم ہرجانے کا مطالبہ کیا تھا۔ دعویٰ اس حتمی فوجداری فیصلے کی بنیاد پر دائر کیا گیا تھا جس میں ملزمان کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نقالی کر کے چوری کے جرم میں سزا سنائی جا چکی تھی۔
امارات الیوم کے مطابق واقعہ رات کے وقت ایک تجارتی علاقے میں پیش آیا، جہاں ملزمان نے دفتر کی عمارت کے قریب شہری کو روکا، عسکری شناختی کارڈ دکھایا اور خود کو تفتیش کار ظاہر کیا۔ انہوں نے تلاشی کے بہانے شہری کا موبائل فون، بینک کارڈز اور 6 لاکھ درہم سے بھرا بیگ قبضے میں لیا اور یہ کہہ کر فرار ہو گئے کہ دوسری ٹیم آ رہی ہے۔
واقعے کی رپورٹ ملتے ہی حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کیا اور پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کیا۔ فوجداری عدالت نے بعد ازاں ہر ملزم کو چھ ماہ قید، 6 لاکھ درہم جرمانہ اور ملک بدری کی سزا سنائی۔
فوجداری فیصلہ حتمی ہونے کے بعد متاثرہ شہری نے سول عدالت سے رجوع کیا۔ نوٹس کے باوجود ملزمان عدالت میں پیش نہ ہوئے، جس پر عدالت نے فوجداری فیصلے کو جرم اور ذمہ داری کے تعین کے لیے حتمی اور لازم قرار دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ملزمان براہ راست مالی نقصان کے ساتھ ساتھ متاثرہ کو پہنچنے والے نفسیاتی صدمے کے بھی ذمہ دار ہیں۔
عدالت نے پانچوں ملزمان کو مشترکہ اور انفرادی طور پر 6 لاکھ درہم واپس کرنے، 5 فیصد سود ادا کرنے اور 50 ہزار درہم معاوضہ دینے کا حکم دیتے ہوئے دیگر تمام دعوے مسترد کر دیے۔







