عالمی خبریں

وینزویلا: کراکس میں 7 دھماکے، امریکی حملوں کے الزامات اور ایمرجنسی نافذ

خلیج اردو
وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں کم از کم سات دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جو شہر کے جنوبی علاقے میں واقع فوجی اڈے کے قریب ہوئے۔ غیر ملکی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ مختلف مقامات سے دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے گئے، جبکہ کراکس کی فضاؤں میں ہیلی کاپٹر پروازیں کر رہی ہیں۔ دھماکوں کے بعد شہر میں بجلی معطل ہو گئی ہے اور حکام نے شہریوں کو غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

وینزویلا کی حکومت نے امریکی حملوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا مقصد وینزویلا کے تیل اور معدنیات پر قبضہ کرنا ہے، تاہم امریکہ ہمارے وسائل حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوگا۔ صدر وینزویلا نے فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔

روسی میڈیا کے مطابق امریکی حملوں میں وینزویلا کے دفاعی ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا۔ وینزویلا حکومت کے بیان کے مطابق یہ حملے کاراکس کے علاوہ میرانڈا، آراگوا اور لاگویرہ ریاستوں میں بھی ہوئے۔ امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا میں حملوں کا حکم دیا تھا۔

وینزویلا پر مبینہ امریکی حملے محض اچانک کارروائی نہیں بلکہ اس کے پیچھے گہرے جیو پولیٹیکل عوامل کارفرما دکھائی دیتے ہیں۔ وینزویلا تیل، گیس اور قیمتی معدنی وسائل سے مالا مال ملک ہے، جس کی وجہ سے وہ عالمی طاقتوں کے لیے ہمیشہ اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔ توانائی کے تحفظ اور معاشی اثر و رسوخ کے تناظر میں وینزویلا ایک اہم ہدف سمجھا جاتا ہے۔

معاشی پہلو سے دیکھا جائے تو وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ ایسے میں ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنا یا اس کے وسائل تک رسائی پر اثر ڈالنا بیرونی توانائی مفادات کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ سیاسی سطح پر امریکہ کی تاریخ رہی ہے کہ وہ لاطینی امریکہ میں ان حکومتوں کی مخالفت کرتا رہا ہے جو اس کے مفادات سے ہم آہنگ نہ ہوں، اور وینزویلا کی قیادت کو کمزور کرنا خطے میں امریکی اثر و رسوخ بڑھانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

فوجی حکمت عملی کے تحت دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنانا طاقت کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ وینزویلا کی دفاعی صلاحیت کو محدود کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاکہ ملک کسی ممکنہ جوابی کارروائی یا اپنے اہم اثاثوں کے دفاع کی پوزیشن میں نہ رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ کارروائیاں خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک پیغام سمجھی جا رہی ہیں کہ امریکہ لاطینی امریکہ میں مداخلت کی صلاحیت اور ارادہ رکھتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button