
خلیج اردو
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا پر حملوں اور صدر نکولس میڈورو کو گرفتار کر کے نیویارک منتقل کرنے کے اعلان کے دو دن بعد دنیا بھر میں شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا، تاہم اس واقعے کے ساتھ ایک غیر متوقع موضوع بھی خبروں کی زینت بن گیا۔ ٹرمپ کی جانب سے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری کی گئی تصویر میں میڈورو کو امریکی بحری جہاز یو ایس ایس آئیوو جیما پر ایک سرمئی نائیک ٹریک سوٹ میں دکھایا گیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے لباس پر میمز اور تبصروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
تصویر میں میڈورو کو نائیک ٹیک فلیس ٹریک سوٹ، ہیڈفونز اور چشمہ پہنے پانی کی بوتل تھامے دیکھا گیا، جبکہ ان کے ہاتھ بظاہر بندھے ہوئے تھے۔ تصویر وائرل ہوتے ہی بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے ’نائیک ایکس میڈورو‘ کلیکشن جیسے طنزیہ تبصرے شروع کر دیے اور یہاں تک دعویٰ کیا گیا کہ یہ ٹریک سوٹ مارکیٹ میں فروخت ہو کر ختم ہو گیا ہے۔ گوگل پر ’نائیک میڈورو‘ کے سرچ ٹرینڈز میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تاہم اس دعوے کی حقیقت جانچنے پر واضح ہوا کہ ٹریک سوٹ کے مکمل طور پر فروخت ہو جانے کی خبریں درست نہیں۔ خلیج اردو سے بات کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات میں نائیک کے مختلف اسٹورز کے عملے نے تصدیق کی کہ ٹریک سوٹ کے چند پیسز اب بھی دستیاب ہیں اور وینزویلا کے صدر کی گرفتاری کی خبر کے بعد طلب میں کوئی غیر معمولی اضافہ نہیں دیکھا گیا۔ نائیک کی یو اے ای ویب سائٹ پر بھی یہ ٹریک سوٹ بدستور موجود ہے، جہاں جیکٹ کی قیمت 629 درہم اور ٹراوزر کی قیمت 529 درہم درج ہے۔ امریکی ویب سائٹ پر بھی مختلف سائزز میں یہ ملبوسات دستیاب ہیں۔
یہ معاملہ ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ہر خبر پر آنکھ بند کر کے یقین نہیں کیا جا سکتا اور کسی بھی دعوے کی تصدیق ضروری ہے۔







