
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات کے کمرشل کمپنیز قانون میں ترمیم کے تحت ملک میں قائم کمپنیوں کو اماراتی حیثیت دینے کے تصور کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ان کمپنیوں کی شناخت کو اماراتی اداروں کے طور پر مستحکم کرنا اور عالمی منڈیوں تک ان کی رسائی کو بہتر بنانا ہے، یہ حیثیت مین لینڈ، فری زون اور مالیاتی فری زونز میں قائم تمام کمپنیوں پر لاگو ہوگی۔
معاشیات و سیاحت کے وزیر عبداللہ بن طوق المری نے میڈیا بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ اس قانون کا اطلاق کمپنی پر ہوگا، نہ کہ اس کے مالکان، شیئر ہولڈرز یا سرمایہ کاروں پر، ان کا کہنا تھا کہ اماراتی حیثیت کمپنی کی قانونی شناخت سے متعلق ہے اور اس کا مطلب افراد کو شہریت دینا نہیں ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جیسے جرمنی یا برطانیہ میں کمپنی قائم کرنے سے وہ متعلقہ ملک کی کمپنی سمجھی جاتی ہے، اسی طرح یو اے ای میں قائم کمپنی کو اماراتی کمپنی تسلیم کیا جائے گا۔
وزیر معیشت کے مطابق اماراتی حیثیت کے فوائد تجارتی اور اسٹریٹیجک نوعیت کے ہیں، خصوصاً تجارت، حکومتی مراعات اور عالمی منڈیوں تک رسائی میں، اس حیثیت کے تحت کمپنیاں یو اے ای کے ساتھ کیے گئے جامع اقتصادی شراکتی معاہدوں سے فائدہ اٹھا سکیں گی، جن کے ذریعے محصولات میں کمی، کسٹمز سہولت اور نئی منڈیوں تک ترجیحی رسائی ممکن ہوتی ہے۔
یو اے ای اب تک بھارت، ترکیہ، انڈونیشیا، اسرائیل، جنوبی کوریا، کمبوڈیا، جارجیا، کولمبیا اور ماریشس سمیت متعدد ممالک کے ساتھ سیپا معاہدے کر چکا ہے، جبکہ مزید معاہدے زیرِ غور ہیں، اماراتی شناخت کے باعث کمپنیوں کی عالمی سطح پر ساکھ میں اضافہ ہوگا اور سرحد پار تجارت میں ان کی پوزیشن مزید مضبوط ہوگی۔
یہ ترامیم فیڈرل ڈکری لا نمبر 20 آف 2025 کے تحت متعارف کرائی گئی ہیں، جو 2021 کے کمرشل کمپنیز قانون میں تبدیلیاں کرتی ہیں، ان اصلاحات میں متعدد اقسام کے شیئرز کی اجازت، کمپنیوں کو اپنی قانونی شناخت برقرار رکھتے ہوئے امارات یا فری زون تبدیل کرنے کی سہولت، انضمام و حصول کے واضح قواعد، فری زون کمپنیوں کو مین لینڈ میں برانچ کھولنے کی اجازت اور نان پرافٹ کمرشل کمپنیوں کا تصور شامل ہے، وزارتِ معیشت کے مطابق ان تبدیلیوں سے پہلے سال میں کمپنی رجسٹریشنز میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔







