خلیج اردو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران ماضی میں مذاکرات کے دوران سخت مؤقف اختیار کرتا رہا، مگر جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد تہران کو اپنے مؤقف کے نتائج کا اندازہ ہوا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس بار ایران مذاکرات کے لیے سنجیدہ دکھائی دیتا ہے اور ممکنہ طور پر کسی معاہدے تک پہنچنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ سعودی عرب اور یو اے ای کے درمیان جاری جھگڑے میں ملوث نہیں، تاہم اسے حل کر سکتا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور آج ہوگا، جس میں ایرانی وزیرخارجہ جنیوا پہنچ گئے ہیں۔ مذاکرات سے قبل ایران نے خلیج فارس میں فوجی مشقیں بھی جاری رکھیں، جبکہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ایران کے مزید قریب پہنچ گیا۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکہ نے ایران پر یومیہ 800 فضائی حملے کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے اور خطے میں امریکی جنگی سازوسامان اور فوجی موجودگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔







