
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے مختلف شہروں میں شہریوں اور ڈرائیورز نے شکایت کی ہے کہ نیویگیشن ایپس میں لوکیشن درست ظاہر نہیں ہو رہی اور بعض اوقات صارفین کی موجودہ جگہ کئی کلومیٹر دور دکھائی دیتی ہے۔
ڈرائیورز کے مطابق گوگل میپس اور ویز جیسے نیویگیشن سسٹمز حالیہ دنوں میں غیر متوقع رویہ دکھا رہے ہیں جس کے باعث راستے بھی غلط ظاہر ہو رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی متعدد افراد نے ایسی ویڈیوز اور پوسٹس شیئر کیں جن میں لوکیشن اصل مقام سے بالکل مختلف دکھائی دے رہی ہے۔
دبئی کے محمد بن راشد خلائی مرکز کی لیب کے سربراہ محمد حنیف کے مطابق خطے میں کشیدگی کے دوران بعض اوقات سکیورٹی اقدامات کے باعث جی پی ایس سگنلز متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حساس مقامات کے تحفظ کیلئے بعض ادارے ایسے اقدامات کرتے ہیں جن سے سیٹلائٹ سگنلز میں عارضی خلل پیدا ہو جاتا ہے۔
ان کے مطابق اس صورتحال میں دو طریقے استعمال ہوتے ہیں جنہیں جی پی ایس جیمنگ اور جی پی ایس اسپوفنگ کہا جاتا ہے۔ جیمنگ میں سیٹلائٹ سگنلز کو بلاک کر دیا جاتا ہے جبکہ اسپوفنگ میں ڈیوائسز کو غلط سگنل بھیجے جاتے ہیں جس کے باعث نیویگیشن ایپس میں غلط مقام یا غیر معمولی راستے ظاہر ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ سگنلز میں معمولی مداخلت بھی موبائل فون کو چند لمحوں کیلئے غلط مقام دکھا سکتی ہے تاہم اکثر صورتوں میں سگنل مستحکم ہوتے ہی نظام خود درست ہو جاتا ہے۔
دوسری جانب شہریوں نے سوشل میڈیا پر اس صورتحال کو مزاحیہ انداز میں بھی شیئر کیا۔ ایک ویڈیو میں ایک ڈرائیور نے بتایا کہ وہ دبئی کی شیخ زاید روڈ پر سفر کر رہا تھا اور برج خلیفہ واضح نظر آ رہا تھا لیکن نیویگیشن ایپ اس کی لوکیشن خلیج عرب کے درمیان دکھا رہی تھی۔
اسی طرح کئی ڈیلیوری رائیڈرز نے بھی شکایت کی کہ ان کی ایپس میں ڈیلیوری کا مقام کبھی سمندر اور کبھی صحرائی علاقوں میں ظاہر ہو رہا تھا۔
ماہرین کے مطابق ایسی خرابیاں عموماً عارضی ہوتی ہیں اور نیویگیشن ایپس جیسے گوگل میپس عام طور پر محفوظ اور قابلِ اعتماد رہتے ہیں، تاہم سیٹلائٹ سگنلز میں مداخلت کے باعث کچھ وقت کیلئے غلط لوکیشن ظاہر ہو سکتی ہے۔







