
خلیج اردو
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے خلاف گمراہ کن کوریج اور امتیازی سلوک کے الزامات پر برطانیہ کی عدالت میں ایک اہم سماعت ہوئی ہے، جس میں چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔
عدالتی کارروائی کے دوران بتایا گیا کہ اسرائیل غزہ جنگ کے دوران ناظرین کو مبینہ طور پر غلط یا یکطرفہ معلومات فراہم کی گئیں، جس سے ادارتی غیر جانبداری پر سوالات اٹھے ہیں۔
درخواست گزاروں میں شامل پانچ عرب نژاد صحافیوں، جن میں عامر سلطان بھی شامل ہیں، نے الزام عائد کیا کہ ادارے میں امتیازی سلوک کیا گیا اور انہیں غیر منصفانہ طور پر ملازمت سے نکالا گیا۔
صحافیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ادارتی اصولوں کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی، جس کے بعد انہیں نشانہ بنایا گیا اور پیشہ ورانہ دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
عدالت میں اس کیس کو بی بی سی ورلڈ سروس کے خلاف اپنی نوعیت کا غیر معمولی مقدمہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے اثرات عالمی صحافت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
سماعت کے دوران یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ عالمی تنازعات کی کوریج میں غیر جانبداری اور شفافیت کو یقینی بنانا میڈیا اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی کوتاہی عوامی اعتماد کو متاثر کر سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس مقدمے کے نتائج نہ صرف بی بی سی بلکہ عالمی میڈیا اداروں کے لیے بھی ایک اہم نظیر قائم کر سکتے ہیں، خاص طور پر تنازعات کی رپورٹنگ میں احتیاط اور توازن کے حوالے سے۔







