
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں گھر سے کام کرنے والے ملازمین کے لیے بھی وہی قوانین لاگو ہوں گے جو دفتر میں کام کرنے والوں پر ہوتے ہیں، وزارتِ انسانی وسائل و اماراتی امور نے نیا رہنما جاری کر دیا۔
رہنما کے مطابق گھر سے کام کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ملازمین کو کم ذمہ داریاں یا مکمل آزادی حاصل ہے، بلکہ انہیں مقررہ اوقات، کارکردگی کے معیار اور قانونی ذمہ داریوں کی مکمل پابندی کرنا ہوگی۔
اس پالیسی کے تحت ملازمین کو تنخواہ، اوقاتِ کار، چھٹیاں اور دیگر تحفظات وہی حاصل ہوں گے جو عام ملازمین کو دیے جاتے ہیں، جبکہ آجر پر لازم ہے کہ واضح معاہدہ، ضروری آلات، اور بروقت ادائیگیاں یقینی بنائے۔
قوانین کے مطابق روزانہ 8 گھنٹے اور ہفتہ وار 48 گھنٹے کام کی حد مقرر ہے، جبکہ اس سے زائد کام پر اوور ٹائم ادا کرنا ہوگا۔ ملازمین کو سالانہ 30 دن کی چھٹی، بیماری کی چھٹی اور زچگی سمیت دیگر چھٹیوں کے حقوق بھی حاصل ہوں گے۔
رہنما میں واضح کیا گیا کہ ملازمین کو کام کے اوقات میں ذاتی مصروفیات کی اجازت نہیں ہوگی، اور نہ ہی وہ اپنی ذمہ داریاں کسی اور کو منتقل کر سکتے ہیں۔ مسلسل تاخیر، غیر حاضری یا ناقص کارکردگی کو خلاف ورزی تصور کیا جائے گا، جس پر تادیبی کارروائی حتیٰ کہ ملازمت کے خاتمے تک ہو سکتی ہے۔
مزید یہ کہ آجر کو ملازمین کی نگرانی کا حق حاصل ہوگا، تاہم یہ عمل رازداری اور احترام کے دائرے میں ہونا چاہیے۔
حکام کے مطابق یہ رہنما ہائبرڈ اور ریموٹ ورکنگ نظام کو بہتر انداز میں منظم کرنے اور ملازمین و اداروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے جاری کیا گیا ہے۔







