
خلیج اردو: عالمی منڈیوں میں تیزی سے خطرات کی قیمتوں کا تعین (ری پرائسنگ) تیل، سونا، کرنسی اور شیئرز پر فوری اثر ڈالتا ہے، تاہم متحدہ عرب امارات کے سرمایہ کاروں کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ خبروں کے شور میں آئے بغیر درست فیصلے کریں۔
Fadi Abou Ras، جو AvaTrade مڈل ایسٹ کے سی ای او ہیں، کے مطابق سرمایہ کاروں کو سرخیوں کے بجائے بنیادی عوامل (drivers) پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ تیل عام طور پر سپلائی کے خطرات اور ترسیل میں رکاوٹوں کی بنیاد پر حرکت کرتا ہے، جبکہ سونا اعتماد اور تحفظ کا پیمانہ ہوتا ہے، اور امریکی ڈالر عالمی لیکویڈیٹی اور سرمایہ کاری کے رجحانات کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ سرمایہ کار جلد بازی میں فیصلے نہ کریں بلکہ اپنی حکمت عملی اور اہداف پر قائم رہیں۔ ان کے مطابق تیل کی منڈی سب سے پہلے ردعمل دیتی ہے کیونکہ یہ سپلائی میں ممکنہ خلل کو فوری طور پر قیمتوں میں شامل کر لیتی ہے۔
یو اے ای میں سونا ایک اہم اشارہ سمجھا جاتا ہے۔ جب مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بڑھتی ہے تو سونے کی قیمتیں اکثر اوپر جاتی ہیں۔ تاہم چاندی کا کردار مختلف ہو سکتا ہے کیونکہ اس کا تعلق صنعتی طلب سے بھی ہوتا ہے، اس لیے اس میں زیادہ اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملتا ہے۔
شیئرز (equities) کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ تمام شعبے ایک جیسے ردعمل نہیں دیتے۔ ایئر لائنز، ٹریول اور بینکنگ جیسے شعبے دباؤ میں آ سکتے ہیں، جبکہ توانائی، یوٹیلیٹیز اور کچھ ہیلتھ کیئر سیکٹر بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔ اس صورتحال کو "روٹیشن” کہا جاتا ہے، جہاں سرمایہ ایک شعبے سے دوسرے میں منتقل ہوتا ہے۔
فادی ابو رس کے مطابق حالیہ برسوں میں یو اے ای کے سرمایہ کار زیادہ باشعور اور محتاط ہو گئے ہیں، اور اب وہ صرف سہولت نہیں بلکہ شفافیت اور ذمہ داری بھی چاہتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریگولیشن اور سرمایہ کاروں کا تحفظ انتہائی اہم ہے۔ ان کے مطابق ایک مستند پلیٹ فارم کو واضح رسک معلومات، ذمہ دارانہ رہنمائی اور مستحکم سروس فراہم کرنی چاہیے، خاص طور پر جب مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ ہو۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ سرمایہ کار جلدی کو حکمت عملی سمجھ بیٹھیں۔ "ہر خبر پر فوری ردعمل دینا ضروری نہیں، بہتر یہ ہے کہ اپنے اہداف پر قائم رہیں، خطرات کو سمجھیں اور یہ تسلیم کریں کہ ہر اچانک تبدیلی مستقل نہیں ہوتی۔”







