
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے تمام بینکوں اور لائسنس یافتہ مالیاتی اداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ فوری طور پر واٹس ایپ سمیت تمام فوری پیغام رسانی ایپس کے ذریعے مالی خدمات اور صارفین کا ڈیٹا لینا بند کریں۔
مرکزی بینک کے مطابق یہ اقدام صارفین کے تحفظ کو مضبوط بنانے اور مالیاتی نظام میں ڈیٹا سیکیورٹی کے اعلیٰ معیار کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
ہدایت کے تحت بینک اب میسجنگ ایپس کے ذریعے نہ تو صارفین کی معلومات طلب کر سکیں گے اور نہ ہی ٹرانزیکشنز جیسے رقوم کی منتقلی، ادائیگی، قرض یا اکاؤنٹ تبدیلی کی تصدیق کر سکیں گے۔
اسی طرح پاس ورڈ، پن کوڈ یا ون ٹائم پاس ورڈ جیسی حساس معلومات بھی ان پلیٹ فارمز کے ذریعے بھیجنے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
مرکزی بینک نے خبردار کیا ہے کہ ان ایپس کے استعمال سے فراڈ، جعل سازی، اکاؤنٹ ہیکنگ اور سوشل انجینئرنگ جیسے خطرات میں اضافہ ہو رہا تھا، جس کے باعث یہ فیصلہ ناگزیر تھا۔
مزید کہا گیا کہ صارفین کا ڈیٹا ان پلیٹ فارمز کے ذریعے بیرون ملک منتقل یا محفوظ ہو سکتا ہے، جو مقامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
بینکوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر ایسے تمام سسٹمز بند کریں، صارفین کو محفوظ اور منظور شدہ چینلز جیسے موبائل بینکنگ ایپس، آن لائن پلیٹ فارمز اور کال سینٹرز پر منتقل کریں، اور عملے کی تربیت کو بہتر بنائیں۔
اداروں کو 30 اپریل 2026 تک اس ہدایت پر عملدرآمد کی تصدیق اور کیے گئے اقدامات کی رپورٹ جمع کرانا ہوگی، بصورت دیگر مالی جرمانے یا تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام یو اے ای کے مالیاتی نظام کو مزید محفوظ بنانے اور صارفین کے اعتماد کو بڑھانے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔







